Tafseer-e-Majidi - Al-A'raaf : 45
وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ
وَاِذْ : اور جب قَالَتْ : کہا اُمَّةٌ : ایک گروہ مِّنْهُمْ : ان میں سے لِمَ تَعِظُوْنَ : کیوں نصیحت کرتے ہو قَوْمَ : ایسی قوم االلّٰهُ : اللہ مُهْلِكُهُمْ : انہیں ہلاک کرنیوالا اَوْ : یا مُعَذِّبُهُمْ : انہیں عذاب دینے والا عَذَابًا : عذاب شَدِيْدًا : سخت قَالُوْا : وہ بولے مَعْذِرَةً : معذرت اِلٰى : طرف رَبِّكُمْ : تمہارا رب وَلَعَلَّهُمْ : اور شاید کہ وہ يَتَّقُوْنَ : ڈریں
(موسی (علیہ السلام) نے) کہا کیا میں اللہ کے سوا کسی (اور) کو تمہارا معبود تجویز کردوں درآنحالیکہ وہ تم کو دنیا جہان والوں پر فضلیت دے چکا ہے،181 ۔
181 ۔ (بہ حیثیت علمبردار توحید کے) حضرت (علیہ السلام) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ شرک تو کسی قوم کے لیے کسی حال میں بھی جائز نہیں چہ جائیکہ تمہارے لیے جو شروع توحید کے حامل اور علمبرداربنا کر بھیجے گئے ہو۔ افضیلت بنی اسرائیل پر حاشیے سورة بقرہ، پارۂ اول رکوع 5، 6، میں گزر چکے۔
Top