سراج البیان
Siraj-ul-Bayan · 4. An-Nisaa · Ayah 40
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿40﴾
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- لَا يَظْلِمُظلم نہیں کرتا
- مِثْقَالَبرابر
- ذَرَّةٍذرہ
- وَاِنْاور اگر
- تَكُہو
- حَسَنَةًکوئی نیکی
- يُّضٰعِفْھَااس کو کئی گنا کرتا ہے
- وَيُؤْتِاور دیتا ہے
- مِنْ لَّدُنْهُاپنے پاس سے
- اَجْرًاثواب
- عَظِيْمًابڑا
Translation · Siraj-ul-Bayan
بیشک اللہ ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اس کو دو چند کردیتا ہے اور اپنی طرف سے بڑا ثواب دیتا ہے ۔ (ف 2)
Tafseer · Siraj-ul-Bayan
(ف 2) خدائے تعالیٰ اس درجہ رؤف ورحیم ہے کہ باوجود حق واختیار کے وہ کسی کی حق تلفی نہ کرے گا اور نیکیوں کو بڑھاتا رہے گا ار اپنی طرف سے اجر عظیم عنایت فرمائے گا یعنی وہ ہمہ احسان و جمال ہے ‘ ہمارے گناہوں کو بنظر ترحم دیکھے گا اور ہماری حسنات کو بہ نگاہ فضل امتنان ۔
بات یہ ہے کہ اس کی شان کریمی بہر حال آمدہ بخشش ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بھی بندہ جہنم میں جائے ، یہ نیکیوں کو بڑھانا اور گناہ کی تکفیر تو بہانے ہیں اور وسائل وذرائع اپنی آغوش رحمت میں لینے کے اور ظاہر ہے جب تک وہ زائد از استحقاق فضل و عنایات سے کام نہ لے ، عاصی وگنہگار انسان کے لئے نجات کی کیا امید ہو سکتی ہے ، اس کی نعمتیں اس قدر وسیع وبے حد ہیں کہ ساری زندگی کی عبادتیں اور ریاضتیں ” شکریہ “ کے مرتبے سے آگے نہیں بڑھتیں ، پھر یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ ہماری حقیر ” خدمات “ کو درخور اعتناء جانتا ہے اور ہمیں بخشش عام کا مستحق قرار دیتا ہے ۔