Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 12

Tafseer
  1. وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿12﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. مَسَّپہنچتی ہے
    3. الْاِنْسَانَانسان
    4. الضُّرُّکوئی تکلیف
    5. دَعَانَاوہ ہمیں پکارتا ہے
    6. لِجَنْۢبِهٖٓاپنے پہلو پر (لیٹا ہوا)
    7. اَوْیا (اور)
    8. قَاعِدًابیٹھا ہوا
    9. اَوْیا (اور)
    10. قَآئِمًاکھڑا ہوا
    11. فَلَمَّاپھر جب
    12. كَشَفْنَاہم دور کردیں
    13. عَنْهُاس سے
    14. ضُرَّهٗاس کی تکلیف
    15. مَرَّچل پڑا
    16. كَاَنْگویا کہ
    17. لَّمْ يَدْعُنَآہمیں پکارا نہ تھا
    18. اِلٰىکسی
    19. ضُرٍّتکلیف
    20. مَّسَّهٗاسے پہنچی
    21. كَذٰلِكَاسی طرح
    22. زُيِّنَبھلا کردکھایا
    23. لِلْمُسْرِفِيْنَحد سے بڑھنے والوں کو
    24. مَاجو
    25. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے (ان کے کام)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب تو لیٹے، بیٹھے یا کھڑے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے گویا کسی تکلیف کے لیے، جو اس کو پہنچی، اس نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے گئے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ سرکشوں کی فطرت : " انسان " کا لفظ ہرچند عام ہے لیکن اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے ان کو لائق خطاب نہیں سمجھا اس وجہ سے بات عام الفاظ میں فرما دی۔ یہ ان کی اس اکڑ پر ایک ضرب بھی ہے اور اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس قسم کے لوگوں کا مطالبہ عذاب پورا کردیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے۔ اس قسم کے لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب یہ کسی پکڑ میں آتے ہیں تب تو یہ خدا خدا پکارتے ہیں اور سو سو طرح سے توبہ کا عہد و پیمان باندھتے ہیں یکن ذرا ڈھیل مل جاتی ہے تو وہی سرمستی ان پر پھر عود کر آتی ہے اور انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ کبھی پکڑ میں آئے تھے اور انہوں نے اس سے چھوٹنے کے لیے خدا کو پکارا بھی تھا۔ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی یہ جو کلمہ بیان ہوا ہے یہی ٹھیک ٹھیک ان سرکشوں اور حدود الٰہی سے ان تجاوز کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ جو بداعمالیاں کرتے رہے ہیں۔ سنت الٰہی کے تحت وہ ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دی گئی ہیں کہ اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نشانی عذاب ان کو دکھا بھی دی جائے تو اس کی گرفت سے چھوٹتے ہی پھر یہ اسی کیچر میں لوٹیں گے جس میں لوٹ رہے ہیں۔
Tadabbur-e-Quran - 10 : 12