Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 15

  1. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿15﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. تُتْلٰىپڑھی جاتی ہیں
    3. عَلَيْهِمْان پر (ان کے سامنے)
    4. اٰيَاتُنَاہماری آیات
    5. بَيِّنٰتٍواضح
    6. قَالَکہتے ہیں
    7. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    8. لَا يَرْجُوْنَامید نہیں رکھتے
    9. لِقَآءَنَاہم سے ملنے کی
    10. ائْتِتم لے آؤ
    11. بِقُرْاٰنٍکوئی قرآن
    12. غَيْرِ ھٰذَآاس کے علاوہ
    13. اَوْیا
    14. بَدِّلْهُبدل دو اسے
    15. قُلْآپ کہہ دیں
    16. مَا يَكُوْنُنہیں ہے
    17. لِيْٓمیرے لیے
    18. اَنْکہ
    19. اُبَدِّلَهٗاسے بدلوں
    20. مِنْسے
    21. تِلْقَآئِجانب
    22. نَفْسِيْاپنی
    23. اِنْ اَتَّبِعُمیں نہیں پیروی کرتا
    24. اِلَّا مَامگر جو
    25. يُوْحٰٓىوحی کی جاتی ہے
    26. اِلَيَّمیری طرف
    27. اِنِّىْبیشک میں
    28. اَخَافُڈرتا ہوں
    29. اِنْاگر
    30. عَصَيْتُمیں نے نافرمانی کی
    31. رَبِّيْاپنا رب
    32. عَذَابَعذاب
    33. يَوْمٍدن
    34. عَظِيْمٍبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں، کہتے ہیں اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو۔ کہہ دو مجھے کیا حق ہے کہ میں اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔ یعنی توحید اور آخرت کی یہ باتیں، جو مذکور ہوئیں، نہایت واضح دلائل کے ساتھ ان کو سنائی جاتی ہیں تو یہ ان سے چڑتے ہیں اور کہتے ہی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اس میں ایسی ترمیم کرو کہ ہمارے لیے گوارا ہوسکے۔ گویا قرآن ان کے نزدیک خود آنحضرت ﷺ کی تصنیف ہے کہ آپ اس میں ان کے مطالبے کے مطابق ترمیم و تنسیخ کرسکتے ہیں۔ یہ مطالبہ مخالفین کی شکست خوردگی کی دلیل تھا۔ وہ یہ تو مان چکے تھے کہ قرآن سے اب پیچھا چھڑانا ممکن نہیں رہا۔ اب اگر کوئی شکل باقی ہے تو یہ ہے تو یہ ہے کہ اس کا مقام تسلیم کرتے ہوئے اس میں ایسی ترمیم کرانے کی کوشش کی جائے جس کے بعد ان کے لیے بھی وہ قابل قبول ہوسکے۔ جواب میں نبی ﷺ کی زبان سے یہ کہلایا گیا کہ یہ میری کوئی اپنی تصنیف تھوڑے ہی ہے کہ میں اس میں اپنی جانب سے کوئی ترمیم و تنسیخ کردوں۔ یہ کلام تو مجھ پر خدا کی طرف سے وحی ہوتا ہے اور میں بےچون و چرا اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں اپنی طرف سے کوئی ردوبدل کردوں تو کل کو خدا کے آگے کیا جواب دوں گا۔