Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 28

  1. وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ﴿28﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. نَحْشُرُھُمْہم اکٹھا کرینگے انہیں
    3. جَمِيْعًاسب
    4. ثُمَّپھر
    5. نَقُوْلُہم کہیں گے
    6. لِلَّذِيْنَان لوگوں کو
    7. اَشْرَكُوْاجنہوں نے شرک کیا
    8. مَكَانَكُمْاپنی جگہ
    9. اَنْتُمْتم
    10. وَشُرَكَآؤُكُمْاور تمہارے شریک
    11. فَزَيَّلْنَاپھر ہم جدائی ڈال دیں گے
    12. بَيْنَھُمْان کے درمیان
    13. وَقَالَاور کہیں گے
    14. شُرَكَآؤُھُمْان کے شریک
    15. مَّا كُنْتُمْتم نہ تھے
    16. اِيَّانَاہماری
    17. تَعْبُدُوْنَتم بندگی کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کریں گے اور ان کے شریک کہیں گے، تم ہم کو تو نہیں پوجتے تھے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 36: اوپر، وما لہم من اللہ من عاصم، میں یہ اشارہ جو فرمایا تھا کہ ابدی مایوسی اور ذلت سے چھڑانے میں ان کے مزعومہ شرکاء اور شفعاء کچھ کام آنے والے نہیں، آگے اس اشارے کی تفصیل فرما دی کہ آخرت میں ان کا کیا حال ہوگا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت فرمادی کہ مجرد ظن کی بنیاد پر آرزؤوں کے جو ہوائی قلعے تعمیر کیے جاتے ہیں وہ اسی طرح مسمار ہوتے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚفَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۔ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ۔ مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں : وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا، میں جمیعاً کی تاکید اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ مشرکین کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کے ان شریکوں اور شفیعوں کو بھی جمع کرے گا جن کو انہوں نے خدا کی خدائی میں شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت کی اور ان کو اپنا سفارشی سمجھا۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚفَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ ، مکانکم، سے پہلے امکثوا، یا قفوا، یا ان کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔ یعنی پس اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ عربی میں جب کسی فوری اور واجب التعمیل حکم کا موقع ہو تو ظرف یا مفعول سے پہلے اس طرح فعل کو حذف کردیتے ہیں تاکہ مخاطب کی ساری توجہ اصل بات پر مرتکز ہوجائے۔ فزیلنا، یہ اس روکنے کے مقصد کی تفصیل ہے۔ تزییل کے معنی تفریق اور جدائی ڈال دینے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات میں اس بات کی تصریح ہے کہ قیامت کے دن مشرکین اور ان کے معبودوں میں جدائی ڈال دی جائے گی اور معبود اپنے عابدوں سے اس دن اظہار براءت بھی کریں گے اور خدا کی قسم کھا کر یہ بھی ان کو بتائیں گے کہ ہمیں اصلاً خبر نہیں کہ دنیا میں تم ہماری عبادت کرتے رہے۔ بقرہ آیت 166 اور 167 اور انعام آیت 94 میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔ شرکاء کا اعلان براءت : وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ۔۔ الایہ۔ یہ مزعومہ شریکوں کا اعلان براءت ہے جو ساری خدائی کے آگے ان کے پرستاروں کو رسوا کرے گا۔ انہیں تو یہ امید ہوگی کہ ساری زندگی جن کی عبادت کی ہے اور جن کو نذریں اور قربانیاں پیش کی ہیں آج وہ ان کے کام آئیں گے اور خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا تو یہ ان کو چھڑائیں گے لیکن قبل اس کے کہ یہ زبانیں کھولیں وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہمیں خبر بھی نہیں کہ کچھ احمق لوگ ہماری عبادت کرتے رہے ہیں۔ فکفی باللہ شھیدا، قسم کے معنی میں ہے اور ان کنا، میں ان، مخفف ہے جو ان، کے معنی میں ہوتا ہے اور اس کے بعد الغافلین، پر جو لام ہے وہ اس کا قرینہ ہے۔