Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 30

  1. هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿30﴾

    1. هُنَالِكَوہاں
    2. تَبْلُوْاجانچ لے گا
    3. كُلُّ نَفْسٍہر کوئی
    4. مَّآجو
    5. اَسْلَفَتْاس نے بھیجا
    6. وَرُدُّوْٓااور وہ لوٹائے جائینگے
    7. اِلَىطرف
    8. اللّٰهِاللہ
    9. مَوْلٰىھُمُان کا (اپنا) مولی
    10. الْحَقِّسچا
    11. وَضَلَّاور گم ہوجائے گا
    12. عَنْھُمْان سے
    13. مَّاجو
    14. كَانُوْا يَفْتَرُوْنَوہ جھوٹ باندھتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دوچار ہوگا جو اس نے کیا ہوگا اور لوگ اپنے مولائے حقیقی کے حضور پیش ہوں گے اور افترا کر کے انہوں نے جو معبود بنائے تھے وہ سب ہوا ہوجائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ ہر شخص کی پیشی خدا کے آگے ہوگی۔ بلا یبلو، کے معنی تجربہ کرنے، جانچنے، آزمانے اور چکھنے کے ہیں۔ یعنی مشرکین تو اس امید میں ہیں کہ اگر قیامت ہوئی تو، خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں، ان کے دیوی دیوتا انکو چھڑا ہی لیں گے لیکن وہاں سابقہ ہر شخص کو اپنے ان اعمال سے پیش آئے گا جو اس نے کیے ہوں گے اور وہ انہیں کو بھگتے گا۔ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، یعنی یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ قیامت ہوئی تو ان کے دیوی دیوتا وہاں ان کا خیر مقدم کریں گے لیکن وہاں ہوگا یہ کہ ان کے یہ سارے دیوی دیوتا جو انہوں نے خدا پر افترا کر کے گھڑے ہیں، سب غائب ہوجائیں گے اور سب کی روبکار اللہ واحد کے حضور میں ہوگی جو ان کا اور سب کا مولائے حقیقی ہے۔ مولی، کا صحیح مفہوم مرجع ہے اور مولائے حق کا لفظ یہاں ان کے فرضی معبودوں کے مقابل میں استعمال ہوا ہے جو اللہ پر افترا کر کے گھڑے گئے تھے یعنی ان کے متعلق بالکل جھوٹ دعوی کیا گیا کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے اور یہ ان کے سفارشی ہوں گے۔