Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 36

  1. وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ﴿36﴾

    1. وَمَا يَتَّبِعُاور پیروی نہیں کرتے
    2. اَكْثَرُھُمْان کے اکثر
    3. اِلَّا ظَنًّامگر گمان
    4. اِنَّبیشک
    5. الظَّنَّگمان
    6. لَا يُغْنِيْنہیں کام دیتا
    7. مِنَسے (کام)
    8. الْحَقِّحق
    9. شَيْئًاکچھ بھی
    10. اِنَّبیشک
    11. اللّٰهَاللہ
    12. عَلِيْمٌخوب جانتا ہے
    13. بِمَاوہ جو
    14. يَفْعَلُوْنَوہ کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان میں سے اکثر محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور گمان حق کا بدل ذرا بھی نہیں ہوسکتا اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے خوب باخبر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ۔ محض گمان کی پیوری : لفظ " ظن " علم، یقین اور حق تینوں کے ضد کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ علم ثابت و صحیح اور حق و اضح و معروف کے بجائے محض اپنے گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور ظاہر ہے محض اٹکل کے تیر تکے حقیقت سے بےنیاز نہیں کرسکتے۔ حقیقت جب سامنے آئے گی تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنی عمارت بالکل ریت پر بنائی۔ ان اللہ علیم بما یفعلون، میں ان کے لیے دھمکی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ حقیقت سے آنکھیں میچ کر یہ جو کر رہے ہیں کریں۔ وقت آرہا ہے جب اللہ تعالیٰ سب کچھ ان کے سامنے رکھ دے گا۔ یہ ملحوظ رہے کہ قرآن نے یہ حال ان کی اکثریت کا بیان کیا ہے، سب کا حال یہی نہیں تھا بلکہ ان میں کچھ سوچنے سمجھنے والے بھی تھے جن کا ذکر آگے آیات 42۔ 43 میں آرہا ہے۔