تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 74
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ﴿74﴾
- ثُمَّپھر
- بَعَثْنَاہم نے بھیجے
- مِنْۢ بَعْدِهٖاس کے بعد
- رُسُلًاکئی رسول
- اِلٰىطرف
- قَوْمِهِمْان کی قوم
- فَجَآءُوْھُمْوہ آئے ان کے پاس
- بِالْبَيِّنٰتِروشن دلیلوں کے ساتھ
- فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْاسو ان سے نہ ہوا کہ وہ ایمان لے آئیں
- بِمَااس پر جو
- كَذَّبُوْاانہوں نے جھٹلایا
- بِهٖاس کو
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- كَذٰلِكَاسی طرح
- نَطْبَعُہم مہر لگاتے ہیں
- عَلٰيپر
- قُلُوْبِدل (جمع)
- الْمُعْتَدِيْنَحد سے بڑھنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ہم نے اس کے بعد رسول بھیجے ان کی اپنی قوموں کی طرف تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے اسی طرح ہم حدود سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ۔
بعد کے رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ : یہ ان رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے جو حضرت نوح کے بعد آئے۔ یہاں ان کی تفصیل نہیں کی ہے بلکہ سرسری اشارہ کرکے بعد والی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت لے لی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل بعد والی سورة۔ سورة ہود۔ میں آئی ہے جو اس سورة کے مثنی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ہود، صالح، لوط اور شعیب (علیہم السلام) کا ذکر بھی مفصل ہوا ہے اور قوم نوح اور قوم موسیٰ کے حالات کے بھی بعض وہ گوشے روشنی میں آئے ہیں جو یہاں مخفی رہ گئے تھے۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ اسلوب قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے۔ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا۔۔ الایۃ، میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو توفیق ایمان کے باب میں بار بار بیان ہوئی ہے اور جس کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں کہ جو لوگ عقل و فطرت کے بدیہیات اور یقینیات کو جھٹلا دیتے ہیں ان کو رسول کے انذار سے بھی کوئی نفع نہیں پہنچتا ہے۔ ایسے لوگوں پر رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت ہوتا ہے اور اس اتمام حجت کے نتیجہ میں ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ " اعتداء " کے معنی حدود الٰہی سے تجاوز کے ہیں۔ جو لوگ خدا کے مقرر کیے ہوئے تمام حدود توڑ تاڑ کے رکھ دیتے ہیں ان کے اندر حدود کے احترام کا احساس ہی مردہ ہوجاتا ہے اور اس احساس کے مردہ ہوجانے کے بعد ان سے کسی خیر کی امید عبث ہے۔ ایسے مردے کسی کے جھنجھوڑنے سے بھی نہیں جاگتے۔