Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 93

  1. وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿93﴾

    1. وَلَقَدْ بَوَّاْنَااور البتہ ہم نے ٹھکانہ دیا
    2. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
    3. مُبَوَّاَٹھکانہ
    4. صِدْقٍاچھا
    5. وَّرَزَقْنٰھُمْاور ہم نے رزق دیا انہیں
    6. مِّنَسے
    7. الطَّيِّبٰتِپاکیزہ چیزیں
    8. فَمَا اخْتَلَفُوْاسو انہوں نے اختلاف نہ کیا
    9. حَتّٰىیہاں تک کہ
    10. جَآءَھُمُآگیا ان کے پاس
    11. الْعِلْمُعلم
    12. اِنَّبیشک
    13. رَبَّكَتمہارا رب
    14. يَقْضِيْفیصلہ کرے گا
    15. بَيْنَھُمْان کے درمیان
    16. يَوْمَ الْقِيٰمَةِروز قیامت
    17. فِيْمَااس میں جو
    18. كَانُوْاوہ تھے
    19. فِيْهِاس میں
    20. يَخْتَلِفُوْنَوہ اختلاف کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کا ٹھکانا دیا اور ان کو اچھا رزق بخشا اور انہوں نے نہیں اختلاف برپا کیا مگر اس وقت جبکہ ان کے پاس علم آگیا، تیرا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۔ " تبویہ " کے معنی متمکن کرنے کے ہیں اور " صدق کی طرف اس کی اضافت اس کے اندر مزید قوت وا استحکام کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے دشمن کو پامال کیا اور بنی اسرائیل کو اپنے منتخب کردہ علاقے میں اقتدار و استحکام بخشا۔ یہ منتخب علاقہ، جیسا کہ سورة بقرہ میں وضاحت ہوچکی ہے، اردن اور شام کا علاقہ ہے۔ ورزقناہم من الطیبات، سے علاقے کی زرخیزی و شادابی کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیلات تورات میں موجود ہیں اور قرآن نے بھی جگہ جگہ اس کا حوالہ دیا ہے۔ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ ، اب یہ اس ناشکری اور ناسپاسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اتنے عطیم احسانات کے مورد ہونے کے بعد اللہ کے دین اور اس کی کتاب و شریعت کے معاملے میں یہود نے کی۔ انہوں نے اس کے اندر طرح طرح کے اختلافات پیدا کر کے پائی ہوئی حقیقت گم کردی اور اسی سرگشتگی اور حیرانی میں پھر مبتلا ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام سے ان کو نکالا تھا۔ حتی جاء ہم العلم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ وہ بدقسمت قوم ہے جس نے رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی اس وجہ سے سارا بار الزام اس کے اپنے ہی کندھوں پر ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَھُمْ۔۔۔ الایۃ، یہ دھمکی ہے یہود کو کہ آج انہوں نے اللہ کے دین کے معاملے میں جو دھاندلی مچائی ہے اور کتاب الٰہی کی جن حقیقتوں پر پردہ ڈالا ہے سب کے فیصلے کے لیے اللہ نے ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ اس دن ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے آجائے گا اور ہر شخص اپنے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اپنے کیفر کردار کو پہنچے گا۔