Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 100. Al-Aadiyaat · Ayah 1

  1. وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ﴿1﴾

    1. وَالْعٰدِيٰتِقسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی
    2. ضَبْحًاہانپنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
گواہی دیتے ہیں ہانپتے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’عَادِیَاتٌ‘ سے مراد: ’عَادِیَاتٌ‘ کے معنی دوڑنے والے کے ہیں لیکن یہاں یہ جنگی گھوڑوں کی صفت کے طور پر آیا ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ آگے چار صفتیں، جو ترتیب کے ساتھ آئی ہیں، وہ جنگی گھوڑوں کے سوا کسی اور چیز پر منطبق نہیں ہوتیں۔ بعض لوگوں نے اس سے مزدلفہ میں اونٹوں کو مراد لیا ہے، لیکن اس کا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ آگے کی صفتیں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اونٹوں کی نہیں ہو سکتیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں۔ لیکن اس تخصیص کے لیے بھی کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ خاص طور پر مقسم علیہ سے تو یہ بات بالکل ہی بے جوڑ ہو جائے گی۔ مقسم علیہ یہاں ’إِنَّ الْإِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ‘ (۶) (بے شک انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے) ہے، اس مقسم علیہ کو غازیوں اور مجاہدین کے گھوڑوں کے ساتھ کیا ربط ہو سکتا ہے! یہ قول اور اوپر مزدلفہ کے اونٹوں سے متعلق جس قول کا حوالہ گزرا ہے یہ دونوں قول اس عام وہم پر مبنی ہیں کہ جس چیز کی قسم کھائی جائے ضروری ہے کہ وہ کوئی مقدس چیز ہو۔ ہم اس وہم کی تردید اس کتاب میں جگہ جگہ کر چکے ہیں کہ مقسم بہ کے لیے مقدس ہونا کوئی ضروری بات نہیں ہے بلکہ اصل اہمیت رکھنے والی چیز اس کا اس دعوے پر شہادت ہونا ہے جو اس کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ آگے ہم تفصیل سے بتائیں گے کہ گھوڑوں کی قسم کن کن پہلوؤں سے انسان کی ناشکری و ناسپاسی کی دلیل ہے۔ ’ضَبْحٌ‘ وہ خاص آواز نکالنے کے لیے آتا ہے جو گھوڑے ہانپتے ہوئے اپنے نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ ان کے ہانپنے کا یہ خاص انداز اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے ان کو انسان کی محکومی میں دیا ہے اس کو وہ نہایت وفاداری و جاں نثاری سے پورا کرنے والے اور انسان کی مقصد برآری میں اپنی طاقت کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر رکھ دینے والے ہیں۔