Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 102. At-Takaathur · Ayah 2

  1. حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ﴿2﴾

    1. حَتّٰىیہاں تک کہ
    2. زُرْتُمُتم نے زیارت کی
    3. الْمَقَابِرَقبروں کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اسی تگ و دو میں زندگی گزرتی ہے یہاں تک کہ عمر تمام ہو جاتی ہے اور قبروں میں جا پہنچتے ہو۔ لفظ ’زُرْتُمْ‘ عربی میں بالکل سادہ معنوں میں آتا ہے۔ اردو کے لفظ ’زیارت‘ کی طرح اس کے اندر کسی شرف و تقدس کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ ’زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘ کے معنی بس یہ ہوں گے کہ تم نے قبروں کو دیکھا یعنی ان کے حوالے ہوئے۔ کسی حماسی کا شعر ہے: اذا زرت ارضًا بعد طول الجتنابھا فقدت صدیقی والبلاد کما ھیا (جب میں کسی سرزمین کو، عرصہ تک اس سے جدا رہنے کے بعد، دیکھتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ احباب تو میں نے سارے کھو دیے لیکن زمین اسی طرح ہے جس طرح تھی) سرگشتگان دنیا کی حالت پر اظہار افسوس: اگرچہ عربوں میں یہ روایت بھی رہی ہے کہ اپنے قبیلہ کے نام وروں اور مقتولوں کی قبروں کا شمار رکھتے اور مفاخرت کی مجلسوں میں ان کا ذکر بھی کرتے لیکن یہ چیز یہاں مراد نہیں ہے اور یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے کہ اس کا یوں ذکر آئے، البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلوب ’حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘ کا کیوں اختیار کیا گیا۔ سیدھے لفظوں میں یوں کیوں نہیں کہا گیا کہ ’یہاں تک کہ تمہاری موت آ گئی، یا یہاں تک کہ تم نے جان، جان آفرین کے حوالہ کی‘۔ اس کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اول تو قافیہ کی رعایت یہ اسلوب اختیار کرنے کی مقتضی ہوئی دوسرے اس سے سرگشتگان دنیا کی محرومی و بے نصیبی پر اظہار افسوس کا مضمون آیت میں پیدا ہو گیا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ اسی تکاثر کی بھاگ دوڑ میں لگے رہے یہاں تک کہ قبروں سے دوچار ہوئے یا قبرستانوں میں جا براجے۔