Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 103. Al-Asr · Ayah 1

  1. وَ الْعَصْرِۙ﴿1﴾

    1. وَالْعَصْرِقسم زمانہ کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
زمانہ شاہد ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’عصر‘ کی تحقیق: ’و‘ قسم کے لیے ہے اور ’عَصْرٌ‘ کے معنی زمانہ کے ہیں۔ استاذ امام مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس لفظ کی جو تحقیق اپنی تفسیر سورۂ عصر میں بیان فرمائی ہے اس کا خلاصہ ہم اپنے لفظوں میں پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’’عصر‘ کے معنی زمانہ کے ہیں۔ جس طرح ’دَھْرٌ‘ میں زمانہ کی مجموعیت کا اعتبار ہے اسی طرح لفظ ’عَصْرٌ‘ میں اس کے گزرنے اور اس کی تیزروی کی طرف اشارہ ہے چنانچہ اس کا غالب استعمال گزرے ہوئے زمانہ ہی پر ہوتا ہے۔ امرؤ القیس کا مصرعہ ہے: وھل ینعمن من کان فی العصر الخالی (اور اب ان کے لیے کیا مبارکی ہے جو گزرے ہوئے زمانوں میں ہوئے) عبید بن الابرص نے کہا ہے: فذاک عصر وقد ارانی یحملنی بازل شبوب (وہ بھی زمانہ تھا جب میں اپنے کو دیکھتا کہ ایک جوان اور خوبصورت اونٹنی پر سوار ہوں)‘‘ کلام عرب کی روشنی میں لفظ کی تحقیق بیان کرنے کے بعد مولانا خلاصۂ بحث پیش کرتے ہیں: ’’اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ’عَصْرٌ‘ ایک طرف زمانۂ گزشتہ کے احوال و واقعات یاد دلا رہا ہے دوسری طرف اس کی مخصوص صفت تیز روی اور برق رفتاری کی طرف بھی متوجہ کر رہا ہے۔ ان دونوں حقیقتوں کی طرف اشارہ سے ہمارے سامنے دو اہم نتائج آتے ہیں۔ ایک یہ کہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے ان کے اعمال کے اعتبار سے نافذ ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ ہم کو زمانہ سے جس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی تیز روی اور برق رفتاری ہے، زیادہ سے زیادہ مستعدی سے فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔‘‘ اب اس سوال پر غور کیجیے کہ زمانہ کی قسم یہاں کیوں کھائی گئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم سے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے تاریخ کے ان واقعات کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس دنیا میں قانون مجازات کے ظہور کے پیش آئے اور جو قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بیان ہوئے ہیں۔ دوسری طرف لوگوں کو اس سے جھنجھوڑا ہے کہ لوگ اپنی زندگیاں غفلت میں نہ گزاریں بلکہ پوری مستعدی سے ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ انہی تیز رو لمحات کے بدلے وہ ابدی بادشاہی حاصل کر سکتے ہیں اگر انھوں نے ان کی صحیح قدر پہچانی اور اگر ان کی قدر نہ پہچانی تویاد رکھیں کہ یہ ان کے لیے ابدی لعنت بن جائیں گے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس نکتہ کی وضاحت اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے: ’’پچھلی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے جو فیصلے نافذ ہوئے وہ ٹھیک ٹھیک ان کے اعمال کا بدلہ تھے۔ انھوں نے نیکیاں اور بھلائیاں کیں تو خدا نے ان کو عروج بخشا اور اگر انھوں نے ظلم و فساد کی راہ اختیار کی تو قانون الٰہی نے، اتمام حجت کے بقدر مہلت دینے کے بعد ان کو تباہ و برباد کر دیا۔ اسی حقیقت کی یاددہانی کے لیے یہاں زمانہ کی قسم کھائی کہ لوگ یاد رکھیں کہ ایک دن اس قانون مکافات سے لازماً انھیں بھی دوچار ہونا ہے۔‘‘ ’’علاوہ ازیں اس قسم میں ایک اور نازک نکتہ بھی مضمر ہے۔ وہ یہ کہ انسان کا اصل راس المال زمانہ ہی ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ تیزروی اور برق رفتاری میں کوئی چیز بھی اس سے بڑھ کر نہیں ہے۔ پھر یہ انسان کی کیسی نادانی ہے کہ وہ زمانہ کی اس بے وفائی سے واقف ہونے کے باوجود اس پر بھروسہ کرتا اور زندگی کی بے ثباتی، قیامت کی بازپرس اور جزائے عمل کے قانون سے غافل رہتا ہے۔‘‘ اس حقیقت کو مولانا مثال سے یوں سمجھاتے ہیں: ’’اس معاملے میں انسان کی مثال بالکل اس تاجر کی ہے جو برف کی تجارت کرتا ہے، لیکن بجائے اس کے کہ جلد سے جلد اس کو بیچ کر اپنے دام کھرے کرنے کی فکر کرے اس کو اس نے رکھ چھوڑا اور اس کی چمک اور ٹھنڈک کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ناعاقبت اندیش تاجر کو بہت جلد اپنی غفلت پر کف افسوس ملنا پڑے گا۔‘‘ اسی سلسلہ میں ایک اور نکتہ کی طرف مولانا ان لفظوں میں اشارہ فرماتے ہیں: ’’علاوہ بریں زمانہ کی تیزروی میں ایک پہلو بشارت اور تقویت صبر کا بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس تھوڑی سی مدت میں اگر انسان چاہے تو اجر و ثواب کا ایک لازوال خزانہ جمع کر سکتا ہے۔ ایک بدبخت انسان اس حیات فانی کی چند روزہ لذتوں پر ریجھ کر اپنے کو ابدی مسرت و کامیابی سے محروم کر لیتا ہے لیکن ایک عاقل اسی فانی زندگی کے چند دنوں کے اندر، جن کی حقیقت ایک خواب اور برق خاطف سے زیادہ نہیں، تقویٰ اور ضبط نفس کی آزمائش جھیل کر۔۔۔ خدا کی خوشنودی اور اس کی محبت کا ابدی تخت و تاج حاصل کر لیتا ہے۔‘‘