تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 107. Al-Maa'un · Ayah 4
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ﴿4﴾
- فَوَيْلٌپس خرابی
- لِّلْمُصَلِّيْنَنمازیوں کیلئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس ہلاکی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بیت اللہ کے پروہتوں کی بے روح نمازیں: یہ بیت اللہ کے ان پروہتوں کی نمازوں کی بے حقیقتی کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ بیت اللہ کے متولی ہونے کے تعلق سے اپنے عوام کو دکھانے کے لیے نماز کی رسم بھی ادا کرتے ہیں لیکن ان کی نماز محض دکھاوے کی ہوتی ہے اس وجہ سے روح سے بالکل خالی، نری ریاکاری ہوتی ہے۔
یہ امر واضح رہے کہ بیت اللہ کا اصل مقصد تعمیر نماز کا قیام تھا اور اس کے جوار میں حضرت اسمٰعیل کو حضرت ابراہیم نے خاص اسی مقصد سے بسایا تھا کہ وہ اور ان کی ذریت نماز کا اہتمام رکھیں۔ اسی کی خاطر انھوں نے ان کے لیے امن اور رزق کی دعا بھی فرمائی تھی۔ سورۂ ابراہیم میں یہ دعا یوں مذکور ہے:
رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ. (ابراہیم ۴۱: ۳۷)
’’اے ہمارے رب، میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو ایک بن کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے، اے ہمارے رب، تاکہ یہ نماز کا اہتمام کریں۔‘‘
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے نماز کے قیام و اہتمام کا فریضہ جس طرح ادا فرمایا اس کی شہادت قرآن میں موجود ہے کہ
’وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ‘ (مریم ۱۹: ۵۵)
(اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا)
اگرچہ بعد کے ادوار میں مبتدعین اور خائنوں کے تسلط کے سبب سے نماز اور زکوٰۃ دونوں کا حلیہ بالکل بگڑ گیا۔ زکوٰۃ کا جو حشر ہوا اس کی تفصیل اوپر گزری۔ نماز کا جو حال ہوا اس کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ سورۂ انفال کی آیت ۳۵ میں موجود ہے:
’وَمَا کَانَ صَلَاتُھُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآءً وَّتَصْدِیَۃً‘ (الانفال ۸: ۳۵)
(بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹی اور تالی بجانا رہ گئی ہے)
تاہم اپنی بگڑی ہوئی صورت میں سہی یہ چیزیں باقی رہیں اور جس طرح ہر دور کے لیڈر اپنے عوام کو بے وقوف بنائے رکھنے کے لیے مذہبی رسوم کی نمائش کرتے رہتے ہیں اسی طرح قریش کے لیڈر بھی خاص خاص مواقع پر ان رسوم کی نمائش کرتے رہتے تھے۔ ان کی اسی نماز پر فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے لیے تباہی ہے جو اپنی نمازوں کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔