تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 109
فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ع﴿109﴾
- فَلَا تَكُپس تو نہ رہ
- فِيْ مِرْيَةٍشک و شبہ میں
- مِّمَّااس سے جو
- يَعْبُدُپوجتے ہیں
- هٰٓؤُلَآءِیہ لوگ
- مَا يَعْبُدُوْنَوہ نہیں پوجتے
- اِلَّامگر
- كَمَاجیسے
- يَعْبُدُپوجتے تھے
- اٰبَآؤُهُمْان کے باپ دادا
- مِّنْ قَبْلُاس سے قبل
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- لَمُوَفُّوْهُمْانہیں پورا پھیر دیں گے
- نَصِيْبَهُمْان کا حصہ
- غَيْرَ مَنْقُوْصٍگھٹائے بغیر
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو تم ان کے باب میں کسی تردد میں نہ پڑو جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں۔ یہ اسی طرح پوج رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے رہے اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا بغیر کسی کمی کے دے کے رہیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْص۔
خطاب نبی سے عتاب مخالفین پر : ہم یہ اسلوب متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ خطاب بظاہر الفاظ تو آنحضرت ﷺ سے ہوتا ہے لیکن اس کے اندر جو عتاب مضمر ہوتا ہے اس کا رخ مخالفین کی طرف ہوتا ہے۔ وہ چونکہ اپنی ضد کے سبب سے لائق خطاب نہیں رہ جاتے اس وجہ سے بات ان کو خطاب کر کے کہنے کے بجائے پیغمبر کو خطاب کر کے کہہ دی جاتی ہے۔ سورة یونس کی آیات 94۔ 95 میں اس کی مثال گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے شرک پر جماؤ سے تمہیں کہیں یہ غلط فہمی نہ لاحق ہو کہ ان کے پاس اس کے لیے کوئی دلیل موجود ہے بس جس طرح ان کے باپ دادا بےسمجھے بوھے ان پتھروں اور خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو پوجتے آئے اسی طرح اپنی عقلوں پر پٹی باندھ کر یہ ان کو پوج رہے ہیں۔ عقل اور دلیل سے کام لینے کی زحمت نہ انہوں نے اٹھائی نہ یہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وان الموفوہم، یعنی یہ جس جنت الحمقاء میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں گزاریں ہم تو ان کا حصہ پورا کر کے رہیں گے۔ اس میں ذرا کمی نہیں کریں گے۔