Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 120

  1. وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿120﴾

    1. وَكُلًّااور ہر بات
    2. نَّقُصُّہم بیان کرتے ہیں
    3. عَلَيْكَتجھ پر
    4. مِنْسے
    5. اَنْۢبَآءِخبریں (احوال)
    6. الرُّسُلِرسول (جمع)
    7. مَا نُثَبِّتُکہ ہم ثابت کریں (تسلی دیں)
    8. بِهٖاس سے
    9. فُؤَادَكَتیرا دل
    10. وَجَآءَكَاور تیرے پاس آیا
    11. فِيْمیں
    12. هٰذِهِاس
    13. الْحَقُّحق
    14. وَمَوْعِظَةٌاور نصیحت
    15. وَّذِكْرٰياور یاد دہانی
    16. لِلْمُؤْمِنِيْنَمومنوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے ہر ایک تمہیں سنا رہے ہیں جن سے تمہارے دل کو تقویت دیں، اور ان میں تمہارے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لیے ان میں نصیحت اور یاد دہانی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاۗءَكَ فِيْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَّذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔ سرگزشتیں سنانے سے مقصود : اوپر حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کی جو سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سرگزشتیں ہم اس لیے سناتے ہیں کہ ان کے وہ پہلو تمہارے سامنے لائیں جو تمہارے دل کو مضبوط کریں تاکہ تم ان حالات کا پامردی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرسکو جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا آئند پیش آسکتے ہیں۔ اور یہ اطمینان رکھو کہ ان واقعات سے حق کے غلبہ اور باطل کی شکست کی جو تاریخ تمہارے سامنے آئی یہ تمام تر حقائق پر مبنی ہے۔ ایسا ہی ہوا ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ یہ سنت الٰہی پر مبنی اور سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ وموعظۃ وذکر للمومنین اور ان سرگزشتوں میں ان لوگوں کے لیے بھی موعظت اور یاد دہانی ہے جو تم پر ایمان لائے ہیں۔ مخالفتوں کے اس طوفان میں جن چیزوں سے انہیں بچنا ہے وہ بھی ان سے واضح ہوتی ہیں اور جو روش انہیں اختیار کرنی چاہیے وہ بھی سامنے آتی ہے۔