Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 32

Tafseer
  1. قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿32﴾

    1. قَالُوْاوہ بولے
    2. يٰنُوْحُاے نوح
    3. قَدْ جٰدَلْتَنَاتونے جھگڑا کیا ہم سے
    4. فَاَكْثَرْتَسو بہت
    5. جِدَالَنَاہم سے جھگڑا کیا
    6. فَاْتِنَاپس لے آ
    7. بِمَا تَعِدُنَآوہ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے
    8. اِنْاگر
    9. كُنْتَتو ہے
    10. مِنَسے
    11. الصّٰدِقِيْنَسچے (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے کہ اے نوح تم نے ہم سے بحث کرلی اور بہت بحث کرلی، اگر تم سچے ہو تو وہ چیز ہم پر لاؤ جس کی تم ہم کو برابر دھمکی سنا رہے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
32۔ 33:۔ قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀ قوم نوح کا مطالبۂ عذاب : جب قوم نوح کے اعیان بحث و مناظرہ کے میدان میں بالکل پسپا ہوگئے، حضرت نوح نے ہر پہلو سے ان پر حجت تمام کردی اور ان کے لیے کوئی راہِ فرار باقی نہیں چھوڑی تو آخری امن انہوں نے اپنے لیے یہ خیال کیا کہ ان سے اس عذاب کے لانے کا مطالبہ کریں جس کی وہ خبر دے رہے تھے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ بحث و مناظرہ تو اے نوح ! بہت ہوچکا، اب تو بس اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لاؤ جس کی دھمکی پر دھمکی سنا رہے ہو۔ حضرت نوح نے جواب میں فرمایا کہ عذاب کا لانا تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہی جب چاہے گا لائے گا لیکن یہ یاد رکھو کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو جب عذاب آد ھمکے گا اس وق کوئی خدا کے قابو سے باہر نہ نکل سکے گا۔