تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 45
Tafseerوَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ﴿45﴾
- وَنَادٰياور پکارا
- نُوْحٌنوح
- رَّبَّهٗاپنا رب
- فَقَالَپس اس نے کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اِنَّبیشک
- ابْنِيْمیرا بیٹا
- اَهْلِيْمیرے گھروالوں میں سے
- وَاِنَّاور بیشک
- وَعْدَكَتیرا وعدہ
- الْحَقُّسچا
- وَاَنْتَاور تو
- اَحْكَمُسب سے بڑا حاکم
- الْحٰكِمِيْنَحاکم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے میرے خداوند میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ پکا ہے اور تو تمام فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَنَادٰي نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِيْ مِنْ اَهْلِيْ وَاِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِيْنَ۔
بلاغت کلام کا ایک خاص پہلو : یہ دعا حضرت نوح نے اس وقت فرمائی ہے جب بیٹے کو ڈوبتے دیکھا اس وجہ سے بظاہر اس کا حوالہ آیت 43 کے ساتھ آنا تھا لیکن بلاغت کلام کے اقتضا سے اس کا ذکر مؤخر ہوگیا۔ گویا خدا کی نگاہوں میں یہ شخص، حضرت نوح کا بیٹا ہونے کے باوجود ایسا نابکار تھا کہ جب تک خدا نے اس کو غرق نہیں کرلیا۔ اس کے باب میں حضرت نوح کی دعا کو زیر بحث لانا بھی پسند نہیں فرمایا۔ اس غضب کی وجہ ظاہر کہ اس دنیا میں اگر کسی انسان کو سب سے بڑی سعدات اور خوش بختی حاصل ہوسکتی ہے تو وہ یہی ہوسکتی ہے کہ اگر وہ اس کی قدر نہ کرے اور دلی کے گھر میں شیطان بن کر اٹھے۔ چناچہ کلام کی ترتیب ہی سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ اس شخص کو خدا نے سب سے زیادہ مبغوض قرار دیا۔ گویا سارے طوفان کا اصلی ہدف تھا ہی یہی کہ جب یہ ڈوب گیا تو معاً طوفان کے خاتمہ کا اعلان ہوگیا۔
حضرت نوح کی شفقت پدری : حضرت نوح نے یہ دعا شفقت پدری سے مغلوب ہو کر محض اہل کے اس لفظ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرمائی جو اوپر آیت 40 میں گزرا ہے کہ حضرت نوح کو حکم ہوا کہ " اس کشتی میں ہر چیز کے نر و مادہ اور اپنے اہل و عیال کو بجز ان کے جن کے باب میں خدا کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے، سوار کرالو " چونکہ اہل کے لفظ میں ان کا بیٹا کنعان بھی بظاہر لفظ میں شامل تھا اور یہ بات یقین کے ساتھ ان کے علم میں نہیں تھی کہ یہ خدا کے اس فیصلہ کی زد میں آچکا ہے جس کا حوالہ ہم نے اوپر الا من سبق علیہ القول کی وضاحت کرتے ہوئے دیا ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے فریاد کی کہ اے رب، میرا یہ بیٹا بھی میرے اہل میں شامل ہے اور تیرا یہ وعدہ کہ تو میرے اہل کو اس کشتی کے ذریعہ سے نجات دے گا۔ سچا وعدہ ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ مطلب یہ کہ جب یہ تیرا سچا وعدہ موجود ہے تو میرا یہ بیٹا غرق کیوں وا ؟