تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 53
قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿53﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- يٰهُوْدُاے ہود
- مَا جِئْتَنَاتو نہیں آیا ہمارے پا
- بِبَيِّنَةٍکوئی دلیل (سند) لے کر
- وَّمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- بِتَارِكِيْٓچھوڑنے والے
- اٰلِهَتِنَااپنے معبود
- عَنْ قَوْلِكَتیرے کہنے سے
- وَمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- لَكَتیرے لیے (تجھ پر)
- بِمُؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے کہ اے ہود تم ہمارے پاس کوئی کھلی نشانی لے کر تو آئے نہیں اور ہم مجرد تمہارے کہنے سے تو اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہمہ ہرگز تمہیں ماننے والے نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ۔
قوم کی طرف معجزہ کا مطالبہ۔ بینۃ سے مراد یہاں کوئی کھلا ہوا حسی معجزہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا اتنا بڑا دعوی کہ تم خدا کے رسول ہو کر ہمارے پاس آئے ہو اور اتنا بڑا مطالبہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں، مجرد تمہارے کہہ دینے سے کس طرح قبول کرلیں ؟ ہم یہ دعوی اور مطالبہ تو صرف اس صورت میں مان سکتے تھے جب تم کوئی کھلا ہوا معجزہ دکھاتے۔ لیکن جب تم اس طرح کا کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے تو ہم مجرد تمہارے کہے پر نہ اپنے معبودوں ہی کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور نہ تمہارے اس دعوے ہی کی تصدیق کے لیے تیار ہیں کہ تم خدا کے رسول ہو۔