تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 75
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ﴿75﴾
- اِنَّبیشک
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
- لَحَلِيْمٌبردبار
- اَوَّاهٌنرم دل
- مُّنِيْبٌرجوع کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک ابراہیم نہایت ہی بردبار، دردمند اور پنے رب کی طرف دھیان رکھنے والا تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ۔ " اواہ " آہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا لغوی مفہوم ہے کثرت سے آہ آہ کرنے والا یعنی نہایت درد مند، نہایت غم خوار اور صاحب درد۔ جب حضرت ابراہیم قوم لوط سجیسی ناہنجار قوم کی سفارش میں اس طرح اپنے دل کو نچوڑ کر رکھ دیتے ہیں تو ان کے حلم اور ان کی دردمندی میں کیا شک کی گنجائش رہی اور کمال انابت کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ بظاہر معلوم ہے کہ اب قوم لوط کا پیمانہ لبریز ہے لیکن وہ برابر دعا اور التجا میں سرگرم ہیں۔