Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 89

  1. وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ﴿89﴾

    1. وَيٰقَوْمِاور اے میری قوم
    2. لَا يَجْرِمَنَّكُمْتمہیں نہ کمواواے ( آمادہ نہ کرے)
    3. شِقَاقِيْٓمیری ضد
    4. اَنْکہ
    5. يُّصِيْبَكُمْتمہیں پہنچے
    6. مِّثْلُاس جیسا
    7. مَآ اَصَابَجو پہنچا
    8. قَوْمَ نُوْحٍقوم نوح
    9. اَوْیا
    10. قَوْمَ هُوْدٍقوم ہود
    11. اَوْیا
    12. قَوْمَ صٰلِحٍقوم صالح
    13. وَمَااور نہیں
    14. قَوْمُ لُوْطٍقوم لوط
    15. مِّنْكُمْتم سے
    16. بِبَعِيْدٍکچھ دور
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اے میری قوم کہیں میری ضد تمہارے لیے اس امر کا باعث نہ بن جائے کہ تم پر بھی اسی طرح کی آفت نازل ہو جس طرح کی آفت قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر نازل ہوئی اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور بھی نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ۔ حضرت شعیب کی تنبیہ : " شقاق " کے معنی ضد اور مخالفت کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پرائے شگون پر اپنی ناک نہ کٹوا بیٹھو۔ میری ضد میں تم نے جو روش اختیار کی ہے کہیں وہ تمہارے لیے اس بات کا سبب نہ بنا جائے کہ تم پر کوئی اس طرح کا عذاب آدھمکے جس طرح کے عذاب قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر اس سے پہلے آ چکے ہیں اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قوم لوط زمانہ اور اپنے مسکن دونوں ہی اعتبار سے قوم شعیب سے قریب تھی۔ حضرت شعیب کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ میں تمہیں صرف ماضی بعید کے افسانے سنا رہا ہوں بلکہ تمہارے ماضی قریب اور تمہارے قرب و جوار کی شہادت بھی یہی ہے کہ تمہاری روش خدا کے عذاب کو دعوت دے رہی ہے۔