تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 112. Al-Ikhlaas · Ayah 3
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ﴿3﴾
- لَمْ يَلِدْنہ اس نے جنا
- وَلَمْ يُوْلَدْاور نہ وہ جنا گیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نصاریٰ کی گمراہی اور ان کا اعتراف: نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی کا جنا ہوا۔ یہ بات اگرچہ لفظ ’اَحَدٌ‘ کے اندر بھی، جیسا کہ ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ موجود تھی اور وہ عاقلوں کے لیے کافی ہے لیکن جو چیزیں قوموں کے لیے مزلہ قدم ہوتی ہیں ان کو قرآن نے مختلف اسلوبوں سے اس طرح واضح کر دیا ہے کہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہ مسئلہ بھی انہی مسائل میں سے ہے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی شادیوں اور ان کے اولاد و احفاد کی جو تفصیلات ہمیں یونانیوں اور ہندوؤں کی دیو مالا (MYTHOLOGY) میں ملتی ہیں اسی سے ملتی جلتی مزعومات ہمیں ان قوموں کے اندر بھی ملتی ہیں جو قرآن کی اول مخاطب تھیں۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ یہود نے بھی تورات کے حامل ہونے کے مدعی ہوتے ہوئے عزیر کو خدا کا بیٹا بنا لیا۔ نصاریٰ نے باپ، بیٹے اور روح القدس کی ایک تثلیث قائم کی اور اس کے تعصب میں اس طرح گرفتار ہوئے کہ ان کے پادری ایک زمانہ میں جب کسی کو اپنے دین میں داخل کرتے تو اس سے پہلے اس شخص سے وہ نعوذ باللہ اس خدا پر لعنت کرواتے جس کی صفات ’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘ میں بیان ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سورہ پر ان کا غصہ اسی وجہ سے تھا کہ اس میں توحید کا جو تصور دیا گیا ہے اس کے ہوتے نہ خدا کو باپ فرض کرنے کی گنجائش باقی رہتی تھی نہ بیٹا اور نہ کسی کو اس کی ماں بنایا جا سکتا تھا۔
قرآن نے ’لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ‘ کے الفاظ سے خدا کی یکتائی اور بے ہمگی کی حقیقت اس طرح بے نقاب کر دی ہے کہ اس کے بعد اس باب میں کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے اور دنیا کو یہ روشنی سب سے پہلے قرآن ہی کے ذریعے سے ملی ہے جس کا اعتراف اب وہ لوگ بھی کرنے لگے ہیں جو اپنے قومی و مذہبی تعصبات کے خول سے باہر نکل کر حقائق کا مواجہہ کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتے تھے۔ جو عیسائی اس خدا کو کبھی نعوذ باللہ گالیاں دیتے تھے جس کا ذکر سورۂ اخلاص میں ہوا ہے اب انہی عیسائیوں کے اندر سے ایسے لوگ بھی پیدا ہو رہے ہیں جو علانیہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ توحید کی حقیقت سے دنیا سب سے پہلے قرآن کے ذریعہ سے آشنا ہوئی ہے۔