تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 1
الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫﴿1﴾
- الٓرٰالف لام را
- تِلْكَیہ
- اٰيٰتُآیتیں
- الْكِتٰبِکتاب
- الْمُبِيْنِروشن
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ الف، لام، را ہے۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 1۔ 2:۔ الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔
سورة کا قرآنی نام : " الرا " یہ اس سورة کا قرانی نام ہے۔ یہی نام سورة یونس اور سورة ہود کا بھی ہے۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے معانی کی کھود کرید کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا شتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے۔ سو یہ چیز، جیسا کہ ہم پچھلی دونوں سورتوں کی تفسیر میں اشارہ کر آئے ہیں، ان سب سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں اصل موضوع بحث ایک ہی ہے البتہ انداز بحث اور انداز استدلال ہر ایک میں الگ الگ ہے۔
" کتاب مبین " کا مفہوم : " تلک ایت الکتاب المبین " کتاب مبین، وہ کتاب جو اپنے بیان و استدلال میں بالکل واضح ہو، جس کی ہر بات ناقابل انکار دلائل سے مبرہن ہو، جس کا انداز بحث و نظر دل نشین، طمانیت بخش اور تمام الجھنوں کو دور کردینے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کی صداقت کی گواہی کے لیے کسی خارجی معجزی یا نشانی کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ منکرین مطالبہ کر رہے ہیں، بلکہ اس کی حقانیت و صداقت کے سورج کی طرح روشن دلائل خود اس کے اندر ہی موجود ہیں بشرطیکہ لوگ کان کھول کر اس کو سنیں اور اس کے دلائل پر غور کریں۔
اہل عرب پر عظیم احسان : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ خطاب اہل عرب سے عموماً اور قریش سے خاص طور پر ہے کہ اللہ کا تم پر عظیم احسان ہوا ہے کہ اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت تمہاری عربی زبان میں نازل ہوئی ہے تاکہ تم اس کو سمجھو، اس کی قدر کرو اور اس کو دوسروں تک پہنچاؤ اور ان کو سمجھاؤ۔ یہ اس کتاب کے کتاب مبین ہونے کا ایک پہلو ہے اور اس میں قریش کے لیے ایک دھمکی بھی ہے کہ اگر تم نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو تم سے بڑا بدقسمت بھی کوئی اور نہ ہوگا۔ یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نعمت کے سزوار ٹھہروگے اگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔