تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 11
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ﴿11﴾
- قَالُوْاکہنے لگے
- يٰٓاَبَانَااے ہمارے آبا
- مَالَكَکیا ہوا تجھے
- لَا تَاْمَنَّاتو ہمارا اعتبار نہیں کرتا
- عَلٰيپر (بارہ میں)
- يُوْسُفَیوسف
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- لَهٗاس کے
- لَنٰصِحُوْنَالبتہ خیر خواہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
11۔ 12:۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ۔ اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔
حضرت یعقوب کو فریب : " یرتع و یلعب " کا لغوی مفہوم تو یہ ہے کہ ذر چرے چگے اور کھیلے کودے لیکن یہ نہایت خوب صورت تعبیر ہے پکنک منانے کی۔ بدویانہ دور زندگی میں جی بلانے کے جو طریقے بہت مقبول و محبوب رہے ہیں ان میں پکنک کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ شعرائے جاہلیت اپنے قصائد میں بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے بھی مذکورہ بالا رائے پر اتفاق کرلینے کے بعد حضرت یعقوب کو شیشہ میں اتارنے کے لیے ان کو یہی سبز باغ دکھانے کی کوشش کی۔ سب مل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے تو اپنا اعتماد جمانے کے لیے یہ کہا کہ کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے ہی خیر خواہ اور محبت کرنے والے ہیں۔ پھر ان کے سامنے اپنا پکنک کا پروگرام پیش کیا کہ کل ہم نے تفریح کا پروگرام بنایا ہے اور ہماری دلی آرزو ہے کہ یوسف بھی اس پروگرام میں شریک ہو، ذرا پھل پھلداری کھائے گا، ہمارے ساتھ کھیلے کودے گا اور آپ پوری طرح مطمئن رہیں کہ کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے، اگر کوئی خطرہ ہوا تو ہم سب اس کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔