تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 15
Tafseerفَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿15﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- ذَهَبُوْاوہ لے گئے
- بِهٖاس کو
- وَاَجْمَعُوْٓااور انہوں نے اتفاق کرلیا
- اَنْکہ
- يَّجْعَلُوْهُاسے ڈال دیں
- فِيْمیں
- غَيٰبَتِاندھا
- الْجُبِّکنواں
- وَاَوْحَيْنَآاور ہم نے وحی بھیجی
- اِلَيْهِاس کی طرف
- لَتُنَبِّئَنَّهُمْکہ تو انہیں ضرور جتائے گا
- بِاَمْرِهِمْان کا کام
- ھٰذَااس
- وَهُمْاور وہ
- لَا يَشْعُرُوْنَنہ جانتے ہوں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب وہ اس کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ اس کو کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں اور ہم نے اس کو وحی بھی کردی کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کروگے جب کہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہوگا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
15۔ 17:۔ فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۔
ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ " لما " کا جواب۔ قالوا یابانا۔۔۔ الایۃ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ کی کئی باتوں کو " لما " ہی کے تحت کردیا ہے۔ یعنی جب انہوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا اور یوسف کو یہ خوش خبری بھی الہام کردی گئی کہ تم اس آفت سے نجات پاؤ گے اور ایک دن آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کروگے۔ اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کروگے، اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے، تب انہوں نے یہ کہا کہ ہم تو یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ اس ایجاز کا فائدہ یہ ہوا کہ سرگزشت کے تمام اجزا کی طرف اشارہ بھی ہوگیا اور اصل نقطہ سے مخاطب کی توجہ ہٹنے بھی نہ پائی۔
اب اس کے اجزا پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ۔ یعنی حضرت یعقوب کو کسی نہ کسی طرح راضی کر ہی لیا اور یوسف کو ساتھ لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو کنوئیں میں ڈال دیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امر میں اختلاف اگرچہ آخر تک موجود رہا کہ یوسف کو قتل کریں یا کنوئیں میں ڈالیں لیکن بالآخر کنوئیں والی تجویز ہی پر سب کا اتفاق اور اسی پر عمل ہوا۔
حضرت یوسف کو بشارت :َاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ یہاں " وحی " سے مراد اصطلاحی وحی نہیں ہے بلکہ مراد دل میں بات ڈال دینا ہے۔ صالحین کو ظالموں اور شریروں کے ہاتھوں جب کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جس وقت ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے اسی وقت مظلوم کے دل پر بھی غیب سے سکینت و طمانیت تسلی اور بشارت نازل فرماتا ہے۔ اس کا تجربہ کم و بیش ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی تکلیف اٹھانے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ چیز آپ سے آپ دل پر نازل ہوتی ہے اور پھر دل کو اس طرح اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے کہ بڑی سے بڑی مصیبت کی اہمیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں رہ جاتی۔ حضرت یوسف ؑ کے لیے دل پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات ڈال دی گئی کہ یہ آزمائش وقتی اور عارضی ہے۔ وہ وقت آئے گا کہ تم ان لوگوں کو ان کی کارستانی سے آگاہ کروگے اور تم اس وقت ایسے منصب بلند پر ہوگے کہ یہ گمان بھی نہ کرسکیں گے کہ یہ ان کا وہی بھائی ان سے بات کررہا ہے جس کو انہوں نے اندھے کنوئیں میں پھینکا تھا۔ اس کی تفصیل آیت 90 کے تحت آئے گی۔
بھائیوں کی سخن سازی : وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ۔ یعنی یہ کارستانی انجام دے کر کچھ رات گئے منہ بسورتے اور ٹسوے بہاتے باپ کے پاس آئے۔ کچھ رات گئے آنے میں ممکن ہے یہ مصلحت مدِنظر رہی ہو کہ اگر باپ کے دل میں تلاش و تحقیق کا کوئی خیال پیدا ہو تو اس کا بھی کوئی امکان باقی نہ رہے۔
قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۔ یہ وہ اصل بات ہے جو انہوں نے اپنی صفائی میں پیش کی۔ استباق کے معنی دورنے، جھپٹنے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے ہیں۔ اسی سورة میں آگے استبقا الباب آیا ہے یعنی وہ دونوں دروازے کی طرف جھپٹے۔ ان لوگوں نے اپنے لیے عذر تلاش کرنے میں کچھ زیادہ ذہانت کا ثبوت نہیں دیا۔ حضرت یعقوب نے ان کے سامنے بھیڑیے کا جو اندیشہ ظاہر کیا تھا اسی سے انہوں نے بات بنا لی کہ باپ کے ذہن میں بھیڑیے کا اندیشہ تو موجود ہی ہے تو کیوں نہ اس کی آڑ میں پناہ لی جائے۔ چناچہ انہوں نے حضرت یعقوب ہی کی بات دہرا دی کہ ہم تو یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور پھر بھیڑیا آیا اور یوسف کو کھا گیا۔ یہ بات کہنے کو تو انہوں نے کہہ دی لیکن وہ خود بھی مطمئن نہیں تھے کہ حضرت یعقوب ان کی بات باور کرلیں گے۔ چناچہ ان کے دل کا چور ان کی زبان پر بھی آگیا اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ کر گزرے کہ وما انت بمومن لنا ولو کنا صدقین۔ آپ ہماری بات ماننے والے تو ہیں نہیں اگرچہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں۔