Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 22

Tafseer
  1. وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿22﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. بَلَغَپہنچ گیا
    3. اَشُدَّهٗٓاپنی قوت
    4. اٰتَيْنٰهُہم نے اسے عطا کیا
    5. حُكْمًاحکم
    6. وَّعِلْمًااور علم
    7. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    8. نَجْزِيہم جزا دیتے ہیں
    9. الْمُحْسِنِيْنَنیکی کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا ہم نے اس کو حکومت اور علم عطا کیا اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۔ حضرت یوسف پر انعامِ الٰہی : یہ وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے بعد میں حضرت یوسف پر فرمایا اور جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے۔ فرمایا کہ جب وہ عمر کی پختگی کو پہنچا ہم نے اس کو حکم اور علم سے نوازا اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ لفظ اشد جوانی کے لیے بھی آتا ہے اور پختہ سن و سال کے لیے بھی آتا ہے مثلا حتی اذا بلغ اشدہ و بلغ اربعین سنۃ (یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا) حکم اور علم یہاں نبوت کی تعبیر ہے۔ حکم سے مراد قوت فیصلہ بھی ہے اور حکومت بھی اور یہ دونوں ہی چیزیں حضرت یوسف کو عطا ہوئیں۔ " علم " سے مراد وہ علم ہے جو حضرات انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے عطا ہوتا ہے۔ آخر میں یہ واضح فرمادیا کہ یہ انعام جو یوسف پر ہوا تو اس لیے ہوا کہ وہ خوب کار تھے۔ انہوں نے خدا کے حقوق و فرائض کو پہچانا اور ہر امتحان میں پورے اترے تو خدا نے ان کو اپنی نبوت کے لیے انتخاب فرمایا۔
Tadabbur-e-Quran - 12 : 22