تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 15
وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩۩﴿15﴾
- وَلِلّٰهِاور اللہ ہی کو
- يَسْجُدُسجدہ کرتا ہے
- مَنْجو
- فِيمیں
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- طَوْعًاخوشی سے
- وَّكَرْهًایا ناخوشی سے
- وَّظِلٰلُهُمْاور ان کے سائے
- بِالْغُدُوِّصبح
- وَالْاٰصَالِاور شام
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں، خواہ طوعاً خواہ کرہاً۔ اور ان کے سائے بھی صبح اور شام
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۔
ہرچیز کی تکوینی شہادت : یہ اوپر والے مضمون کی مزید تاکید ہر چیز کی تکوینی شہادت سے فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اصل وجود میں خدا ہی کی مطیع و منقاد ہے۔ جن کو کچھ اختیار ملا ہوا ہے اگر وہ اپنے اس اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اکڑتے بھی ہیں تو وہ بھی اپنے تکوینی وجود میں خدا ہی کے آگے جھکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شہادت ہے اس بات کی کہ ہمارا وجود اپنی فطرت سے خدا ہی کا مطیع ہے۔ اگر ہم خدا سے اکڑتے ہیں تو یہ حالت درحقیقت ہماری اپنی اصل جبلت سے بغاوت ہے۔ اس حقیقت کو اس مثال سے واضح فرمایا ہے کہ دیکھ لو، ہر چیز کا سایہ صبح و شام خدا کے آگے بچھا رہتا ہے اور رات بھر وہ اپنے اس تکوینی سجدہ سے سر نہیں اٹھاتا۔ صبح کو وہ آہستہ آہستہ سر اٹھاتا ہے اور پھر سورج کے زوال کے ساتھ اس پر رکوع و سجود کی وہی حالت طاری ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ مضمون سورة نحل کی آیات 48۔ 49 میں بھی بیان ہوا ہے۔ انشاء اللہ وہاں ہم اس کی مزید تفصیل کریں گے۔ یہ دلائل کی ایک خاص قسم ہے جس کو ہم اشارات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ منطق کی میزان ان دلائل کی صحیح قدروقیمت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے لیکن انسانی فطرت کی میزان میں ان دلائل کی صحیح قدروقیمت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے لیکن انسانی فطرت کی میزان میں ان دلائل کا بڑا وزن ہے۔