Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 21

  1. وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ع﴿21﴾

    1. وَبَرَزُوْااور وہ حاضر ہونگے
    2. لِلّٰهِاللہ کے آگے
    3. جَمِيْعًاسب
    4. فَقَالَپھر کہیں گے
    5. الضُّعَفٰٓؤُاکمزور (جمع)
    6. لِلَّذِيْنَان لوگوں سے جو
    7. اسْتَكْبَرُوْٓابڑے بنتے تھے
    8. اِنَّا كُنَّابیشک ہم تھے
    9. لَكُمْتمہارے
    10. تَبَعًاتابع
    11. فَهَلْتو کیا
    12. اَنْتُمْتم
    13. مُّغْنُوْنَدفع کرتے ہو
    14. عَنَّاہم سے
    15. مِنْسے
    16. عَذَابِ اللّٰهِاللہ کا عذاب
    17. مِنْ شَيْءٍکسی قدر
    18. قَالُوْاوہ کہیں گے
    19. لَوْاگر
    20. هَدٰىنَاہمیں ہدایت کرتا
    21. اللّٰهُاللہ
    22. لَهَدَيْنٰكُمْالبتہ ہم ہدایت کرتے تمہیں
    23. سَوَآءٌبرابر
    24. عَلَيْنَآہم پر (لیے)
    25. اَجَزِعْنَآخواہ ہم گھبرائیں
    26. اَمْیا
    27. صَبَرْنَاہم صبر کریں
    28. مَا لَنَانہیں ہمارے لیے
    29. مِنْ مَّحِيْصٍکوئی چھٹکارا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور سب اللہ کے حضور حاضر ہوں گے تو کمزور لوگ ان لوگوں سے جو بڑے بنے رہے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع رہے ہیں تو کیا اللہ کے اس عذاب میں سے کچھ تم ہمارا بوجھ ہلکا کروگے ؟ وہ جواب دیں گے کہ اگر اللہ نے ہم کو ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت کی راہ دکھاتے۔ اب ہمارے لیے یکساں ہے چیخیں چلائیں یا صبر کریں، ہمارے لیے کوئی مفر نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ آخرت کی حضوری : وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ بروز کے اصل معنی پردہ کی اوٹ سے باہر آنے کے ہیں۔ یہاں اس لفظ کے استعمال میں یہ بلاغت ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ سارے لوگ جو اس دنیا میں اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کو اوٹ اور سپر بنائے ہوئے ہیں اور وہ لوگ بھی جو سرپرست اور سپر نے ہوئے ہیں سب صرف خدائے واحد کے حضور حاضر ہوں گے اور وہاں کوئی کسی کا سرپرست، ساتھی اور مددگار نہ ہوگا۔ اس وقت چھوٹے اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم آپ لوگوں کے پیچھے چلنے والے رہے ہیں، جو کچھ آپ لوگوں نے حکم دیا ہم نے اس کی تعمیل کی جس کے نتیجہ میں یہ عذاب ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ، تو کیا اس عذاب میں سے بھی آپ لوگو کچھ ہمارا بار ہلکا کریں گے ؟ ا گناہ عنہ کے معنی ہیں کفاہ، لیڈروں کا جواب : قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ۔۔۔ الایۃ، بڑے اور لیڈر لوگ یہ جواب دیں گے کہ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے تم کو بھی بنایا۔ اگر ہم خود ہایت پر ہوتے تو تمہیں بھی اس کی راہ دکھاتے۔ اب تو شکوہ شکایت کا وقت گزر چکا، یہ تو نتائج بھگتنے کا وقت ہے اور یہ ایسے اٹل ہیں کہ خواہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں نہ یہ ٹلنے والے ہیں اور نہ ہمارے لیے کوئی راہ فرار باقی رہی ہے۔