Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 27

  1. یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ع﴿27﴾

    1. يُثَبِّتُمضبوط رکھتا ہے
    2. اللّٰهُاللہ
    3. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاوہ لوگ جو ایمان لائے (مومن)
    4. بِالْقَوْلِبات سے
    5. الثَّابِتِمضبوط
    6. فِيمیں
    7. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    8. وَاور
    9. فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
    10. وَيُضِلُّاور بھٹکا دیتا ہے
    11. اللّٰهُاللہ
    12. الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
    13. وَيَفْعَلُاور کرتا ہے
    14. اللّٰهُاللہ
    15. مَا يَشَآءُجو چاہتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ اہل ایمان کو قول محکم کی بدولت دنیا کی زندگی میں بھی ثبات عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی اور اللہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے اعمال رائگاں کردے گا اور اللہ جو چاہے کرتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ۔ " کلمہ ثابت " سے مراد کلمہ توحید ہے : قول ثابت سے مراد وہی کلمہ توحید ہے جس کی آسمان و زمین اور فطرت و کائنات دونوں میں پائداری و استواری کی تعریف اوپر گزر چکی ہے۔ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ میں اضلال سے مراد کوششوں اور محنتوں کو رائیگاں کردینا ہے جیسا کہ سورة محمد کی آیت 1 میں ہے " الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہم (جنہوں نے کفر کیا اور خدا کی راہ سے لوگوں کو روکا خدا نے ان کی کوششیں رایگاں کردیں) "۔ ظالمین سے مراد مشرکین ہیں اس لیے کہ شرک، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، سب سے بڑا ظلم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید کے کلمہ ثابت و محکم کی بدولت اہل ایمان کو تو دنیا اور آخرت دونوں میں پائیداری و استواری بخشے گا۔ رہے مشرکین تو اللہ ان کے سارے اعمال کو، جیسا کہ اوپر گزرا، راکھ اور خاک کی طرح برباد کردے گا۔ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ۔ ، یعنی خدا جو چاہتے گا کر ڈالے گا، نہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا بن سکے گا اور نہ کسی سعی و سفارش اس کے ہاں کچھ کام آئے گی۔ وہ بات یہاں پیش نظر رہے جس کا ذکر ہم بار بار کرچکے ہیں کہ خدا کی مشیت ہمیشہ اس کے عدل اور اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔