Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 68

  1. قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ﴿68﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. اِنَّکہ
    3. هٰٓؤُلَآءِیہ لوگ
    4. ضَيْفِيْمیرے مہمان
    5. فَلَا تَفْضَحُوْنِپس مجھے رسوا نہ کرو تم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں تو تم لوگ مجھے رسوا نہ کرو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیت 68 تا 69:۔ قَالَ إِنَّ هَؤُلاءِ ضَيْفِي فَلا تَفْضَحُونِ (68) وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخْزُونِ (69)۔ حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ گنڈوں نے ان کے گھر پر ہلا بول دیا ہے، ان کی اور ان کے مہمانوں کی عزت و آبرو خطرے میں ہے تو نہایت مؤثر انداز میں ان کو اپنی عزت و آبرو کا بھی واسطہ دیا اور خوف خدا کا بھی حوالہ دیا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں، ان کی عزت و آبرو کی حفاظت مجھ پر اخلاقاً فرض ہے، اگر ان پر تم نے کوئی دست درازی کی تو میں ان کی نگاہوں میں بالکل ذلیل ہو کر رہ جاؤں گا، یہ کہیں گے کہ اچھے کے گھر مہمان اترے کہ اس نے ہمیں گنڈوں اور بدمعاشوں کے حوالہ کردیا۔ پھر ان کو خوف خدا بھی یاد دلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کی بےعزتی کرکے مجھے رسوا نہ کرو کہ میں کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہ جاؤں۔ یہ اپیل، اگر مخاطبوں کے اندر اخلاق حس کی کوئی رمق باقی ہوتی، نہایت مؤثر ہوتی اس لیے کہ مہمانوں کی عزت برے سے برے لوگوں کے اندر بھی ایک اعلی صفت سمجھی گئی ہے لیکن جن کی اخلاقی حس بالکل مردہ ہوچکی ہو ان پر اس کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔