Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 85

  1. وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ﴿85﴾

    1. وَمَااور نہیں
    2. خَلَقْنَاپیدا کیا ہم نے
    3. السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
    4. وَالْاَرْضَاور زمین
    5. وَمَااور جو
    6. بَيْنَهُمَآان کے درمیان
    7. اِلَّامگر
    8. بِالْحَقِّحق کے ساتھ
    9. وَاِنَّاور بیشک
    10. السَّاعَةَقیامت
    11. لَاٰتِيَةٌضرور آنیوالی
    12. فَاصْفَحِپس درگزر کرو
    13. الصَّفْحَدرگزر کرنا
    14. الْجَمِيْلَاچھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان غایت کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے اور بلاشبہ قیامت شدنی ہے تو ان سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
خاتمۂ سورة اور پیغمبر کو تسلی : وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلا بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَةَ لآتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ۔ اب یہاں سے براہ راست پیغمبر ﷺ کی طرف خطاب التفات ہے اور اس کی حیثیت خاتمۂ سورة کی ہے جس نے سورة کے تمام مطالب اپنے اندر سمیٹ لیے ہیں۔ آپ کو مخاطب کرکے صبرواستقامت اور مخالفوں کی مخالفت سے خوب صورتی کے ساتھ درگزر کرنے کی تلقین فرمائی جا رہی ہے۔ تمہید کلام یوں ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو جو پیدا کیا تو یوں ہی بےمقصد، عبث اور بےغایت نہیں پیدا کیا ہے بلکہ غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ دنیا کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ہے کہ لوگ اس میں جو چاہیں کرتے پھریں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ اس کے باغایت اور بامقصد ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں لوگوں سے باز پرس ہو۔ جنہوں نے اس میں نیک کام کیے ہوں وہ اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور جنہوں نے اس کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ کر اس میں صرف اپنے ہوائے نفس کی پیروی کی ہو اس کی سزا بھگتیں۔ چناچہ قیامت شدنی ہے وہ آ کے رہے گی اور اس دن یہ لوگ جو تمہاری مخالفت میں آج ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے ہیں اپنا انجام دیکھ لیں گے تو ان کی مخالفتوں اور شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو۔ خوبصورتی کے ساتھ درگرز کا مطلب یہ ہے کہ نہ ان کی شرارتوں سے بددل اور مایوس ہو، نہ ان کی بیہودہ باتوں کا جواب دو اور نہ اپنے فرض دعوت و تبلیغ سے دست کش ہو بلکہ اپنے کام میں لگے رہو اور ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑو۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو یہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی ان کی پیشرو قومیں ہوچکی ہیں۔