Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 97

  1. وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ﴿97﴾

    1. وَلَقَدْ نَعْلَمُاور البتہ ہم جانتے ہیں
    2. اَنَّكَبیشک تم
    3. يَضِيْقُتنگ ہوتا ہے
    4. صَدْرُكَتمہارا سینہ (دل)
    5. بِمَااس سے
    6. يَقُوْلُوْنَجو وہ کہتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم کو معلوم ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 97 تا 99: کفار کے طنز پر صبر و استقامت کی تلقین : وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (99)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو کفار کے طنز و استہزاء پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حاصل کرنے کی تدبیر بتائی گئی ہے کہ حصول صبر و استقامت کے لیے اپنے رب کی تسبیح کرو، اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو تاآنکہ صبح یقین طلوع ہوجائے یعنی ہر وہ بات واقعہ ثابت ہو کے رہے جس کی تم لوگوں کو خبر دے رہے ہو۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ لغزشوں کو معاف فرمائے اور اس کی صحیح باتوں سے پڑھنے والوں کو نفع پہنچے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔