تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 102
قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ﴿102﴾
- قُلْآپ کہہ دیں
- نَزَّلَهٗاسے اتارا
- رُوْحُ الْقُدُسِروح القدس (جبرئیل
- مِنْسے
- رَّبِّكَتمہارا رب
- بِالْحَقِّحق کے ساتھ
- لِيُثَبِّتَتاکہ ثابت قدم کرے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے (مومن)
- وَهُدًىاور ہدایت
- وَّبُشْرٰىاور خوشخبری
- لِلْمُسْلِمِيْنَمسلمانوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو اس کو روح القدس نے تمہارے رب کی جانب سے حق کے ساتھ اتارا ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو جمائے رکھے جو ایمان لائے ہیں اور یہ ہدایت و بشارت ہو خدا کے فرمانبرداروں کے لیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔
روح القدس سے مراد جبرئیل امین ہیں، اور حق سے مراد وہ خالص اور بےآمیز دین ہے جو اللہ کی طرف سے یہود و نصاری اور مشرکین کی تمام ملاوٹوں سے پاک و صاف ہو کر اترا ہے۔
یہ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ جو لوگ تمہیں مفتری کہتے ہیں ان کو جواب دے دو کہ یہ جو میں پیش کررہا ہوں اس کو اپنے جی سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب نہیں کر رہا ہوں بلکہ یہ خدا کے مقرب فرشتے جبریل امین نے میرے رب کی جانب سے مجھ پر اتارا ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ شیاطین و مفسدین کی ہر ملاوٹ سے بالکل پاک و صاف۔ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔ یعنی اللہ نے دین کو تمام ملاوٹوں سے پاک کرکے اس لیے اتارا ہے تاکہ وہ ایمان لانے والوں کو حق پر جمادے اور وہ لغزشوں اور گمراہیوں سے بالکل محفوظ ہوجائیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر دین کے بعض اجزا میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے تو وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، تدریج کی مصلحت سے واقع ہوئی ہے اور مقصود اس سے لوگوں کو دین میں راسخ کرنا تھا۔ اگر سارا دین بیک دفعہ نازل کردیا جاتا تو یہ لوگوں پر بہت شاق ہوتا اور ان کے قدم دین میں خوب مضبوط نہ جم سکتے۔ وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔ یعنی مخالفین اس سے جو فنتے چاہیں اٹھائیں لیکن جو لوگ خدا کی ہر بات پر امنا و صدقنا کہنے کو تیار ہیں ان کے لیے تو یہ آغاز کے لحاظ سے ہدایت اور انجام کے اعتبار سے بشارت ہے۔