تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 118
وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿118﴾
- وَاور
- عَلَيپر
- الَّذِيْنَ هَادُوْاجو لوگ یہودی ہوئے (یہودی)
- حَرَّمْنَاہم نے حرام کیا
- مَا قَصَصْنَاجو ہم نے بیان کیا
- عَلَيْكَتم پر (سے)
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- وَاور
- مَا ظَلَمْنٰهُمْنہیں ہم نے ظلم کیا ان پر
- وَلٰكِنْبلکہ
- كَانُوْٓاوہ تھے
- اَنْفُسَهُمْاپنے اوپر
- يَظْلِمُوْنَظلم کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو یہودی ہوئے ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ
یعنی اصلا یہودی پر بھی وہی چیزیں حرام تھہرائی گئی تھیں جو اوپر آیات 115 میں مذکور ہوئیں لیکن پھر انہوں نے خود اپنے جی سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں جوان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کردی گئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس کی وضاحت نساء کی ٓیت 160 کے تحت گزرچکی ہے تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈالیں۔