Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 14

  1. وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿14﴾

    1. وَهُوَاور وہی
    2. الَّذِيْجو۔ جس
    3. سَخَّرَمسخر کیا
    4. الْبَحْرَدریا
    5. لِتَاْكُلُوْاتاکہ تم کھؤ
    6. مِنْهُاس سے
    7. لَحْمًاگوشت
    8. طَرِيًّاتازہ
    9. وَّتَسْتَخْرِجُوْااور تم نکالو
    10. مِنْهُاس سے
    11. حِلْيَةًزیور
    12. تَلْبَسُوْنَهَاتم وہ پہنتے ہو
    13. وَتَرَىاور تم دیکھتے ہو
    14. الْفُلْكَکشتی
    15. مَوَاخِرَپانی چیرنے والی
    16. فِيْهِاس میں
    17. وَلِتَبْتَغُوْااور تاکہ تلاش کرو
    18. مِنْسے
    19. فَضْلِهٖاس کا فضل
    20. وَلَعَلَّكُمْاور تاکہ تم
    21. تَشْكُرُوْنَشکر کرو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ اس میں چیرتی ہوئی چلتی ہیں (تاکہ تم اس میں سفر کرو) اور اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ سمندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ : تسخیر بحر سے مراد وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے یعنی خدا نے سمندر کو تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے کہ تمہیں اس سے تازہ گوشت بھی حاصل ہوتا ہے اور تم اپنی زینت کے لیے اسی سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ، یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ولتبتغوا سے پہلے لترکبوھا یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے اور حرف عطف " و " اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ایک گہرے اور موجزن سمندر کے اندر اس کے پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم ان پر سوار اور تجارتی سفر کرکے خدا کے فضل کے طالب اور اس کے شکرگزار بنو کہ اس نے اپنی قدرت و رحمت سے تمہارے لیے سمندر کے سینے پر سے نہایت مصفا سڑکیں نکال دی ہیں جن پر سے تمہارے بڑے بڑے جہاد گزرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ خدا کے اس فضل و نعمت پر لوگ اس کے شکر گزار ہوں لیکن نادانوں نے ان دریاؤں اور سمندروں ہی کو دیوی دیوتا بنا کر ان کی پوجا اور عبادت شروع کردی۔