تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 2
یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ﴿2﴾
- يُنَزِّلُوہ نازل کرتا ہے
- الْمَلٰٓئِكَةَفرشتے
- بِالرُّوْحِوحی کے ساتھ
- مِنْسے
- اَمْرِهٖاپنے حکم
- عَلٰيپر
- مَنْ يَّشَآءُجسے چاہتا ہے
- مِنْسے
- عِبَادِهٖٓاپنے بندے
- اَنْکہ
- اَنْذِرُوْٓاتم ڈراؤ
- اَنَّهٗکہ وہ
- لَآنہیں
- اِلٰهَکوئی معبود
- اِلَّآسوائے
- اَنَامیرے
- فَاتَّقُوْنِپس مجھ سے ڈرو
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اتارتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔
کفار کے بعض مطالبات کا جواب : کفار کا مطالبہ دو چیزوں کے لیے تھا۔ ایک تو اس چیز کے لیے کہ ان پر بھی اسی طرح فرشتے اتریں جس طرح پیغمبر ﷺ کو دعوی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ دوسرا اس عذاب کے لیے جس سے پیغمبر ﷺ ان کو ڈراتے تھے۔ چناچہ اسی سورة میں ان کے ان دونوں مطالبات کا حوالہ ہے۔ ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی امر ربک (وہ نہیں منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کا حکم ہی آجائے)۔ ان میں سے دوسرے مطالبہ کا جواب تو اوپر والی آیت میں دے دیا گیا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اب یہ ان کے پہلے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ اس پر فرشتے اتریں۔ اللہ اپنے فرشتے اپنے بندوں میں سے ان پر اتارتا ہے جن پر چاہتا ہے۔ یعنی جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے اور جن کا وہ اس مقصد کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ ، یعنی یہ فرشتے امر الٰہی کی۔ روح۔ کے ساتھ اترتے ہیں۔۔ روح۔ سے مراد وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح کو دل کی زندگی وحی الٰہی سے ہے۔ سیدنا مسیح ؑ کا ارشاد ہے کہ انسان روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔
رسولوں کو اللہ کی مشترک ہدایت : اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔ یعنی ہر رسول کو اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے تو صرف مجھی سے ڈرو اور میری ہی عبادت کرو۔ کسی اور کو میرا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ۔