تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 25
Tafseerلِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ع﴿25﴾
- لِيَحْمِلُوْٓاانجام کار وہ اٹھائیں گے
- اَوْزَارَهُمْاپنے بوجھ (گناہ)
- كَامِلَةًپورے
- يَّوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
- وَمِنْاور کچھ
- اَوْزَارِبوجھ
- الَّذِيْنَان کے جنہیں
- يُضِلُّوْنَهُمْوہ گمراہ کرتے ہیں
- بِغَيْرِ عِلْمٍعلم کے بغیر
- اَلَاخوب سن لو
- سَآءَبرا
- مَا يَزِرُوْنَجو وہ لاتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ میں بھی حصہ بٹائیں جن کو یہ بغیر کسی علم کے گمراہ کررہے ہیں۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ جو یہ اٹھائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ۔
یہ ان کی اس سعی نامراد کا انجام بیان ہورہا ہے جو وہ لوگوں کو حق سے روکنے کے لیے کررہے تھے۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا انجام یہ ہونا کہ قیامت کے روز یہ اپنی گمراہی کا پورا بوجھ کو اٹھائیں گے ہی اس لیے کہ اس دن ان کے وہ شرکاء و شفعاء ان کے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں جن کو یہ شریک خدا بنائے بیٹھے ہیں۔ مزید برآں اپنی سعی افساد کے بقدر ان کو ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی اٹھانا پڑے گا جو ان کی ان مفسدانہ کوششوں سے گمراہ ہوں گے۔ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔ میں " من " تبعیض کے لیے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس بنیاد پر کہ دوسرے نے اس کو گمراہ کیا ہے اپنی ذمہ داری سے کلیۃً بری نہیں ہوجائے گا بلکہ اسے بھی اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص عقل و فہم سے بہرہ مند اور مکلف کے حکم میں داخل ہے اس کے لیے یہ عذر کافی نہیں ہے کہ دوسرے نے اس کو گمراہ کیا اس وجہ سے وہ گمراہ ہوگیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود اس کو جو عقل و بصیرت عطا فرمائی تھی اس نے اس سے کیوں کام نہ لیا۔ اس وجہ سے جس طرح اس کا گمراہ کرنے والا اپنی حد تک اس کی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کی سزا بھگتے گا اسی طرح یہ بھی اپنی حد تک اپنی گمراہی کا ذمہ دار قرار پائے گا اور اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ " بغیر علم " کی قید سے ان کے اس جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف تو رسول کی دعوت ہے جو اس علم حقیقی پر مبنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر اترا ہے، دوسری طرف یہ مفسدین ہیں جو بغیر کسی علم ہی کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کو ضلالت کے کھڈ میں گرا رہے ہیں۔