تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 4
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ﴿4﴾
- خَلَقَپیدا کیا اس نے
- الْاِنْسَانَانسان
- مِنْسے
- نُّطْفَةٍنطفہ
- فَاِذَاپھر ناگہاں
- هُوَوہ
- خَصِيْمٌجھگڑا لو
- مُّبِيْنٌکھلا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۔ انسان سے یہاں مراد وہی کفار و مشرکین ہیں جو اوپر کی آیات میں مخاطب ہیں۔ ان سے بیزاری کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پیدا تو ہم نے انسان کو نجس پانی کی ایک بوند سے کیا لیکن اب وہ کھلم کھلا ہمارا ایک حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اب وہ اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی بعد از امکان سمجھتا ہے اور کہتا ہے ءاذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (کیا جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو بہت ہی مستبعد ہے)۔ اور جن کو اپنے زعم کے مطابق اس نے ہمارا شریک بنا رکھا ہے ان کی حمایت میں بھی ہم سے لڑتا ہے۔ آگے آیت 27 میں ان کے اسی لڑنے کا حوالہ ہے۔ ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیہم (اور وہ فرمائے گا کہ اب میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے)۔