تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 56
وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ﴿56﴾
- وَاور
- يَجْعَلُوْنَوہ مقرر کرتے ہیں
- لِمَااس کے لیے جو
- لَا يَعْلَمُوْنَوہ نہیں جانتے
- نَصِيْبًاحصہ
- مِّمَّااس سے جو
- رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
- تَاللّٰهِاللہ کی قسم
- لَتُسْئَلُنَّتم سے ضرور پوچھا جائے گا
- عَمَّااس سے جو
- كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَتم جھوٹ باندھتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ان کا حصہ لگاتے ہیں ان چیزوں میں سے جو ہم نے ان کو دی ہیں۔ خدا کی قسم ! جو افترا تم کررہے ہو اس کی تم سے پرسش ہونی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ ۭ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۔
شرک خدا پر افتراء ہے : یعنی جن دیویوں دیوتاؤں کے بارے میں ان کے پاس کوئی دلیل و ثبوت نہیں۔ محض وہم و گمان کی بنا پر انہوں نے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ ان کو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں میں حصہ دار بناتے ہیں۔ ان کے نام کے حصے بھی نکالتے ہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی طرف منسوب بھی کرتے ہیں کہ یہ ان کے فضل و کرم سے ان کو حاصل ہوئی ہیں۔ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۔ یہ اپنی ذات کی قسم کھا کر ان کو دھمکی دی کہ یہ افتراٗ جو تم خدا پر کررہے ہو کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے، ایک دن اس کی تم سے پرسش ہونی ہے، خدا نے کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا ہے، یہ محض تہمت ہے جو تم اس پر جوڑ رہے ہو۔