Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 6

  1. وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪﴿6﴾

    1. وَلَكُمْاور تمہارے لیے
    2. فِيْهَاان میں
    3. جَمَالٌخوبصورتی۔ شان
    4. حِيْنَجس وقت
    5. تُرِيْحُوْنَشام کو چرا کر لاتے ہو
    6. وَحِيْنَاور جس وقت
    7. تَسْرَحُوْنَصبح کو چرانے لے جاتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کے اندر تمہارے لیے ایک شان بھی ہے جب کہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ۔ " جمال " سے مراد یہاں شان و شوکت اور دولت و عظمت ہے اہل عرب کی اصلی چونکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چوپائے ہی تھے اس وجہ سے وہاں کسی شخص کی ثروت و عظمت کا اندازہ اس کے گلے ہی سے کیا جاتا۔ اگر اس کا گلہ بڑا ہوتا تو وہ بڑا آدمی سمجھا جاتا اور اگر چھوٹا ہوتا تو چھوٹا آدمی خیال کیا جاتا۔ " اراحۃ " کے معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں اور " سرح " کے معنی اس کو چرنے چگنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ یہاں ارحۃ کو سرح پر مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے جب کہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اس درجہ میں اس وقت نہیں ہوتی جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔