تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 64
وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿64﴾
- وَمَآاور نہیں
- اَنْزَلْنَااتاری ہم نے
- عَلَيْكَتم پر
- الْكِتٰبَکتاب
- اِلَّامگر
- لِتُبَيِّنَاس لیے کہ تم واضح کردو
- لَهُمُان کے لیے
- الَّذِيجو۔ جس
- اخْتَلَفُوْاانہوں نے اختلاف کیا
- فِيْهِاس میں
- وَهُدًىاور ہدایت
- وَّرَحْمَةًاور رحمت
- لِّقَوْمٍان لوگوں کے لیے
- يُّؤْمِنُوْنَوہ ایمان لاتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے تم پر کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ تم ان پر اس چیز کو اچھی طرح واضح کردو جس میں وہ مختلف ہوگئے ہیں اور یہ ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی آخری حد : یہ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد بتا دی گئی ہے کہ یہ کتاب ہم نے تم پر اس لیے نہیں اتاری کہ لازماً تم اس کو لوگوں سے قبول ہی کرادو، اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے، تمہاری ذمہ داری صرف اس قدرت ہے کہ اس کے ذریعہ سے اس دین حق کو اچھی طرح واضح کردو جس میں لوگ مختلف ہوگئے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی ﷺ احساس فرض کی شدت کے سبب سے بسا اوقات یہ محسوس فرمانے لگتے کہ لوگ جو ہدایت کی راہ اختیار نہیں کر رہے ہیں تو اس میں کہیں آپ کی کسی کوتاہی کو دخل نہ ہو۔ آپ کی اس الجھن کو دور کرنے کے لیے آپ کی ذمہ داری بتا دی گئی کہ آپ پر صرف واضح طور پر دین کو پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور بس۔ آگے اس مضمون کو مزید واضح فرمادیا ہے۔ " ویوم نبعث فی کل امۃ شہید علیہم من انفسہم وجئنا بک شہیدا علی ھؤلاء ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء وھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین : اور اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں اسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھائیں گے اور ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو واضح کردینے کے لیے اور ہدایت و رحمت اور بشارت بنا کر اسلام اختیار کرنے والوں کے لیے " ھُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔۔ یعنی یہ کتاب ہدایت ہے اپنے آغاز کے لحاظ سے اور رحمت ہے اپنے انجام کے لحاظ سے۔ جو لوگ اس ہدایت کو قبول کرلیں گے بالآخر وہی خدا کی رحمت کے مستحق ٹھہریں گے۔