Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 75

  1. ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾

    1. ضَرَبَبیان کیا
    2. اللّٰهُاللہ
    3. مَثَلًاایک مثال
    4. عَبْدًاایک غلام
    5. مَّمْلُوْكًاملک میں آیا ہوا
    6. لَّا يَقْدِرُوہ اختیار نہیں رکھتا
    7. عَلٰيپر
    8. شَيْءٍکسی شئے
    9. وَّمَنْاور جو
    10. رَّزَقْنٰهُہم نے اسے رزق دیا
    11. مِنَّااپنی طرف سے
    12. رِزْقًارزق
    13. حَسَنًااچھا
    14. فَهُوَسو وہ
    15. يُنْفِقُخرچ کرتا ہے
    16. مِنْهُاس سے
    17. سِرًّاپوشیدہ
    18. وَّجَهْرًااور ظاہر
    19. هَلْکیا
    20. يَسْتَوٗنَوہ برابر ہیں
    21. اَلْحَمْدُتمام تعریف
    22. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    23. بَلْبلکہ
    24. اَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
    25. لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ مثال بیان کرتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، کیا یہ کساں ہوں گے ؟ شکر کا سزاوار اللہ ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ خدا کی بیان کردہ تمثیل : یعنی اگر مثال ہی سننی ہے تو خدا مثال بیان کرتا ہے اس کو سنو۔ ایک طرف ایک غلام مملوک جس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ہے اور دوسری طرف ایک آزاد ہے جس کو خدا نے خوب رزق و فضل دے رکھا ہے، وہ پوری آزادی سے پوشیدہ اور علانیہ اس میں سے خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو پھر خدا اور اس کے مملوکوں کو کس طرح یکساں کردیتے ہو ؟ الحمد للہ، یعنی صحیح طور پر سوچیں تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ شکر کا سزاوار اللہ ہے لیکن ان میں سے اکثر اس بدیہی حقیقت سے واقف نہیں۔