Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 89

  1. وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ع﴿89﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. نَبْعَثُہم اٹھائیں گے
    3. فِيْمیں
    4. كُلِّ اُمَّةٍہر امت
    5. شَهِيْدًاایک گواہ
    6. عَلَيْهِمْان پر
    7. مِّنْ اَنْفُسِهِمْان ہی میں سے
    8. وَجِئْنَااور ہم لائیں گے
    9. بِكَآپ کو
    10. شَهِيْدًاگواہ
    11. عَلٰي هٰٓؤُلَآءِان سب پر
    12. وَنَزَّلْنَااور ہم نے نازل کی
    13. عَلَيْكَآپ پر
    14. الْكِتٰبَالکتاب (قرآن)
    15. تِبْيَانًا(مفصل) بیان
    16. لِّكُلِّ شَيْءٍہر شے کا
    17. وَّهُدًىاور ہدایت
    18. وَّرَحْمَةًاور رحمت
    19. وَّبُشْرٰىاور خوشخبری
    20. لِلْمُسْلِمِيْنَمسلمانوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ ان پر انہیں میں سے اٹھائیں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو کھول دینے کے لیے اور وہ ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرماں برداروں کے لیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔ یہ مضمون اوپر آیت 84 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں یہ اضافہ ہے کہ جئنا بک شہیدا علی ھؤلاء یعنی جس طرح ہم تمام امتوں میں سے ایک گواہ ان پر کھڑا کریں گے اسی طرح تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر اٹھائیں گے۔ " ان لوگوں پر " یعنی ان اہل عرب پر جن کی طرف تمہاری بعثت براہ راست ہے اور جو تمہاری امت دعوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ نبی ﷺ دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے اہل عرب کی طرف آپ کی بعثت براہ راست ہوئی اور تمام خلق کی طرف آپ کی امت کے واسطہ سے جس کو شہداء اللہ فی الارض کی حیثیت حاصل ہے اور جس پر اب قیامت تک خلق کی رہنمائی کی ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ کتاب الٰہی اتمام حجت کا ذریعہ ہے : وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ۔ یہ اس چیز کا حوالہ ہے جو اس دنیا میں حق کی گواہی اور لوگوں پر اتمام حجت کا ذریعہ ہے۔ فرمایا کہ تمہارے اسی فرض منصبی کے تقاضے سے ہم نے تم پر کتاب اتار دی ہے جو شہادت حق کے لیے تمام پہلوؤں سے جامع اور امکمل اور ہر متعلق چیز کو اچھی طرح واجح کردینے والی ہے تاکہ کسی کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اس کتاب کی تعریف میں مزید یہ فرمایا کہ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے جو اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کردیں۔ یہ ان کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے گی پھر جو اس صراط مستقیم کو اختیار کرلیں گے ان پر خدائے رحمان و رحیم کی عظیم رحمت ہوگی اور یہ عظیم رحمت کی پیشگی بشارت ہے۔