تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 11
وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا﴿11﴾
- وَيَدْعُاور دعا کرتا ہے
- الْاِنْسَانُانسان
- بِالشَّرِّبرائی کی
- دُعَآءَهٗاس کی دعا
- بِالْخَيْرِبھلائی کی
- وَكَانَاور ہے
- الْاِنْسَانُانسان
- عَجُوْلًاجلد باز
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہیے اور نسان بڑا ہی جلد باز ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۔
یہ حالت انہی مخالفین قرآن کی بیان ہوئی جو اس پر ایمان لانے کے بجائے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ مطالبہ چونکہ نہایت احمقانہ اور خود ان کے حق میں نہایت مہلک تھا اس وجہ سے بات ان سے منہ پھیر کر عام الفاظ میں بانداز تاسف فرما دی گئی کہ ان سان کا عجیب حال ہے کہ جس سرگرمی کے ساتھ اس کو خیر کا طالب ہونا چاہیے اس سرگرمی کے ساتھ وہ اپنے لیے آفت اور تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مہلت جو ان لوگوں کو ملی ہوئی اس سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگی کو بنانے سنوارنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس عذاب ہی کو دیکھ لیں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔