تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 13
وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا﴿13﴾
- وَاور
- كُلَّ اِنْسَانٍہر انسان
- اَلْزَمْنٰهُاس کو لگا دی (لٹکا دی)
- طٰٓئِرَهٗاس کی قسمت
- فِيْ عُنُقِهٖاس کی گردن میں
- وَنُخْرِجُاور ہم نکالیں گے
- لَهٗاس کے لیے
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِروز قیامت
- كِتٰبًاایک کتاب
- يَّلْقٰىهُاور اسے پائے گا
- مَنْشُوْرًاکھلا ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 13۔ 14:۔ وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ۭ وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۔ اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا۔
" طائر " کا مفہوم : طائر کے اصل معنی تو پرندے کے ہیں لیکن اہل عرب پرندوں سے چونکہ فال لیتے تھے اور اپنے زعم کے مطابق ان سے قسمت بھی معلوم کرتے تھے اس وجہ سے یہ لفظ قسمت، حظ اور نصیبہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ ہے کہ اگر یہ جلدی اپنے مزعومہ شرکاء و شفعا کے بل پر مچائے ہوئے ہیں تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کی گردن کے ساتھ لٹکا رکھا ہے جس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کی پوری تفصیل ایک کھلے ہوئے رجسٹر کی صورت میں اس کے سامنے موجود ہوگی اور ہم اس سے کہیں گے کہ تم اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لو، تم اپنے حساب کے لیے خود ہی کافی ہو، اس میں کسی اور کی دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حساب کے دن کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ ہر ایک کے اعمال اس کے سامنے ہوں گے اور ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہوگا۔