Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 25

Tafseer
  1. رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا﴿25﴾

    1. رَبُّكُمْتمہارا رب
    2. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    3. بِمَاجو
    4. فِيْ نُفُوْسِكُمْتمہارے دلوں میں
    5. اِنْاگر
    6. تَكُوْنُوْاتم ہوگے
    7. صٰلِحِيْنَنیک (جمع)
    8. فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
    9. كَانَہے
    10. لِلْاَوَّابِيْنَرجوع کرنیوالوں کے لیے
    11. غَفُوْرًابخشنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہارا رب جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس سے خوب واقف ہے۔ اگر تم سعادت مند رہوگے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بڑا بخشنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا۔ والدین کے لیے دلی محبت اور کامل سعادت مندی : بڑھاپے والدین کی خدمت و محبت اس طرح کرنا جس طرح قرآن نے ہدایت فرمائی ہے کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اس میں صرف ظاہری اطاعت ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ پاکیزہ قلبی جذبۂ محبت اور دلی لگاؤ بھی مطلوب ہے۔ اس کی اس مشکل کی وجہ سے قرآن نے یہ وضاحت بھی فرمادی کہ اصل مطلوب دلی محبت اور کامل سعادت مندی ہے۔ اگر یہ چیز موجود ہے تو خدا دلوں کے حال سے خوب واقف ہے۔ اس کے ہوتے اگر کوئی چھوٹی موٹی اتفاقیہ کوتاہی صادر ہوگئی تو اس کی تلافی توبہ اور رجوع الی اللہ سے ہوسکتی ہے۔ جو لوگ اپنی اس طرح کی کوتاہیوں پر برابر اللہ سے معافی مانگتے رہیں گے تو اللہ ان کو معاف کردے گا۔