Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 35

Tafseer
  1. وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴿35﴾

    1. وَاَوْفُوااور پورا کرو
    2. الْكَيْلَپیمانہ
    3. اِذَا كِلْتُمْجب تم ماپ کر دو
    4. وَزِنُوْااور وزن کرو تم
    5. بِالْقِسْطَاسِترازو کے ساتھ
    6. الْمُسْتَقِيْمِسیدھی
    7. ذٰلِكَیہ
    8. خَيْرٌبہتر
    9. وَّاَحْسَنُاور سب سے اچھا
    10. تَاْوِيْلًاانجام کے اعتبار سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب تم ناپو تو ناپ پوری رکھو اور وزن صحیح ترازو سے کرو۔ یہی بہتر اور مآل کار کے اعتبار سے خوب تر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ ایفائے کیل و وزن کی تاکید : ایفائے عہد کی تاکید کے بعد یہ ایفائے کیل و وزن کی تاکید ہے کہ آپس کے لین دین میں جب کوئی چیز ناپو یا تولو تو ناپ تول میں کوئی خیانت نہ کرو۔ ناپو صحیح یمانے سے اور تولو ٹھیک ترازو سے۔ یہی طریقہ بہتر اور انجام کے اعتبار سے یہی اچھا ہے۔ یعنی معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے بھی یہی طریقہ سود مند ہے اور مآل کار کے پہلو سے بھی یہی طریقہ بہتر ہے اس لیے کہ خدا کو پسند یہی طریقہ ہے۔ جو قوم ڈنڈی ماری کو شیوہ بنالیتی ہے۔ بظاہر اس کے کچھ افراد اپنی دانست میں نفع کماتے ہیں لیکن وہ درحقیقت اس عدل و صداقت کی بنیاد ہی کو ڈھادیتے ہیں جس پر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کا قیام و بقا منحصر ہے۔