Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 54

Tafseer
  1. رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا﴿54﴾

    1. رَبُّكُمْتمہارا رب
    2. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    3. بِكُمْتمہیں
    4. اِنْاگر
    5. يَّشَاْوہ چاہے
    6. يَرْحَمْكُمْتم پر رحم کرے وہ
    7. اَوْیا
    8. اِنْاگر
    9. يَّشَاْوہ چاہے
    10. يُعَذِّبْكُمْتمہیں عذاب دے
    11. وَمَآاور نہیں
    12. اَرْسَلْنٰكَہم نے تمہیں بھیجا
    13. عَلَيْهِمْان پر
    14. وَكِيْلًاداروغہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہارا رب تم کو خوب جانتا ہے، اگر وہ چاہے گا تم پر رحم فرمائے گا یا اگر چاہے گا تم کو عذاب دے گا اور ہم نے تم کو ان پر مسئول بنا کر مامور نہیں کیا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۔ دعوت کے معاملہ میں مومنین کی ذمہ داری : یہ دعوت کے معاملے میں مومنین اور پیغمبر کی ذمہ داری کی حد واضح فرمادی تاکہ کفار کے معاندانہ رویے سے ان کے دل تنگ نہ ہوں۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ کون رحمت کا مستحق ہے اور وہ ہدایت پا کر رحمت کا مستحق ہوگا اور کون عذاب کا مستح ہے اور وہ گمراہی پر جما رہے گا اور عذاب کا سزاوار ٹھہرے گا۔ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کی ذمہ داری صرف دعوت کو پہنچا دینے کی ہے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لازماً سب کو مومن بنا ہی دیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم کوئی داروغہ تو ان پر مقرر نہیں ہوئے ہو کہ ان کے کفر و ایمان کے معاملے میں تمہیں جواب دہی کرنی ہو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف حق پہنچا دینے کی ہے وہ پہنچا دو ، ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے اور اس کی پرسش خدا کے ہاں انہیں سے ہونی ہے تم سے نہیں ہونی ہے تو تم بلاوجہ زیادہ پریشان کیوں ہو ؟