Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 86

  1. وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ﴿86﴾

    1. وَلَئِنْاور اگر
    2. شِئْنَاہم چاہیں
    3. لَنَذْهَبَنَّتو البتہ ہم لے جائیں
    4. بِالَّذِيْٓوہ جو کہ
    5. اَوْحَيْنَآہم نے وحی کی
    6. اِلَيْكَتمہاری طرف
    7. ثُمَّپھر
    8. لَا تَجِدُتم نہ پاؤ
    9. لَكَاپنے واسطے
    10. بِهٖاس کے لیے
    11. عَلَيْنَاہمارے مقابلہ) پر
    12. وَكِيْلًاکوئی مددگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ہم چاہیں تو اس وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے تم پر کی ہے، پھر تم اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار بھی نہ پاسکوگے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 86 تا 87:۔ وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا۔ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا۔ وحی کی حالت ایک تصرف غیبی ہے : اس آیت کا خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن بات جو فرمائی گئی ہے اس کو انہی لوگوں کو سنانا مقصود ہے جن کا اوپر سوال نقل ہوا ہے فرمایا کہ یہ وحی کی حالت و کیفیت تو تمہارے لیے بھی ایک بالکل اضطرار کیفیت و حال ہے جس میں تمہارے اختیار و ارادہ اور تمہاری خواہش و کوشش کو کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ تم اس کو اپنے ارادے سے لاسکتے اور نہ اپنے ارادے سے روک سکتے۔ یہاں تک کہ اگر ہم اس وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے تم پر کی ہے تو کوئی طاقت ایسی نہیں جو تم کو یہ واپس دلا سکے۔ یہ محض ہمارا تصرف غیبی ہے جس سے تمہیں یہ چیز حاصل ہوتی ہے اور صرف ہمارا فضل ہے جس سے ہم نے تم کو سرفراز کیا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ تمہارے رب کا تمہارے اوپر بہت ہی بڑا فضل ہوا ہے۔