Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 89

  1. وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا﴿89﴾

    1. وَلَقَدْ صَرَّفْنَاور ہم نے طرح طرح سے بیان کیا
    2. لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
    3. فِيْمیں
    4. هٰذَا الْقُرْاٰنِاس قرآن
    5. مِنْسے
    6. كُلِّ مَثَلٍہر مثال
    7. فَاَبٰٓىپس قبول نہ کیا
    8. اَكْثَرُ النَّاسِاکثر لوگ
    9. اِلَّاسوائے
    10. كُفُوْرًاناشکری
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں لیکن اکثر لوگ انکار ہی پر اڑے ہوئے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کے ذریعے اتمام حجت : وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا۔ " تصریف ؛" کے معنی یہاں ایک ایک حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں پیرایوں سے بیان کرنا ہے اور " ضرب مثل " سے مراد حکمت و معرفت کی بات کہنا ہے۔ عربی میں اس مفہوم کے لیے اس محاورہ کا استعمال معروف ہے۔ کسی حماسی کا شعر مشہور ہے : یا بدر والامثال۔ یضربہا لذی اللب الحکیم۔ اے بدر، حکمت کی باتیں حکیم عاقل ہی کے لیے بیان کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ اس معجز کتاب کے نازل ہوجانے کے بعد، جس میں حکمت کی ایک ایک بات گوناگوں اسلوبوں اور پیرایوں سے ہم نے بیان کی ہے ان لوگوں کے پاس یہ عذر باقی نہیں رہا کہ ان کے پاس خدا کی کوئی ہدایت نہیں آئی۔ اس کتاب نے ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی لوگوں کی اکثریت انکار ہی پر اڑی ہوئی ہے تو یہ ان کی اپنی محرومی و بدبختی ہے۔