Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 9

  1. اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ﴿9﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. هٰذَا الْقُرْاٰنَیہ قرآن
    3. يَهْدِيْرہنمائی کرتا ہے
    4. لِلَّتِيْاس کے لیے جو
    5. ھِيَوہ
    6. اَقْوَمُسب سے سیدھی
    7. وَيُبَشِّرُاور بشارت دیتا ہے
    8. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
    9. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    10. يَعْمَلُوْنَعمل کرتے ہیں
    11. الصّٰلِحٰتِاچھے
    12. اَنَّکہ
    13. لَهُمْان کے لیے
    14. اَجْرًا كَبِيْرًابڑا اجر
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 21: آگے کی آیات میں مشرکین قریش اور یہود دونوں کو اس قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جو فطرت کی اسی صراط مستقیم کی دعوت دے رہا ہے جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے۔ اس دعوت پر ایمان لانے والوں اور اس کی تکذیب کرنے والو، دونوں کا انجام واضح فرما دیا گیا ہے اور ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں اور قرآن کی واضح آیات سے آنکھیں بند کیے ہوئے عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسی ذیل میں بالاجمال اس سنت الٰہی کو وضاحت کردی گئی ہے جو قوموں کو عذاب دینے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمائی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ تفسیر آیات 9۔ 10: اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا۔ وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۔ ا " قوم " کا مفہوم : اقوم کے معنی سیدھا اور مستقیم یعنی وہ راستہ جو ٹھیک فطرت اور عقل کے مطابق اور خدا تک پہنچنے اور پہنچانے والا ہے۔ یہود اور مشرکین کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت : یہ بنی اسرائیل اور مشرکین قریش دونوں کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت ہے کہ اگر خدا تک پہنچنا چاہتے ہو تو کچ پیچ بھٹکنے کے بجائے اس راستہ کو اختیار کرو جس کی طرف قرآن بلا رہا ہے۔ یہ ان لوگوں کو اجر عظیم کی خوش خبری دیتا ہے جو اس پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کے سبب سے اس قرآن کو بھی ٹھکرا رہے ہیں ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔